صوابی: دریائے سندھ میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری، شکیل ماندوری کے بیٹے کی لاش بھی برآمد

صوابی: دریائے سندھ میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری، شکیل ماندوری کے بیٹے کی لاش بھی برآمد

صوابی: دریائے سندھ میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ریسکیو 1122 نے شکیل ماندوری کے بعد ان کے بیٹے شرجیل کی لاش بھی برآمد کرلی ہے۔

شرجیل کی لاش دریائے سندھ سے برآمد

ریسکیو 1122 کے مطابق غوطہ خور ٹیموں نے سرچ آپریشن کے دوران شرجیل کی لاش برآمد کی، جس کے بعد 14 اگست کو دریائے سندھ میں ڈوبنے والے خاندان کے دو افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے بعد مسلسل سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ مزید دو لاپتہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔

14 اگست کو پانچ افراد دریائے سندھ میں ڈوب گئے تھے

یاد رہے کہ 14 اگست کو ہنڈ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانچ افراد ڈوب کر لاپتہ ہوگئے تھے۔ لاپتہ ہونے والوں میں مردان سے تعلق رکھنے والے پولٹری تاجر شکیل ماندوری، ان کے دو بیٹے شرجیل اور خضر، جبکہ اویس اور مشال شامل تھے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 صوابی کی غوطہ خور ٹیموں نے سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ بعد ازاں شکیل ماندوری کی لاش بھی دریائے سندھ سے برآمد کرلی گئی، جبکہ اب ان کے بیٹے شرجیل کی لاش بھی مل گئی ہے۔

متعدد اضلاع کی ریسکیو ٹیمیں سرچ آپریشن میں شریک

ریسکیو 1122 صوابی، مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور کی غوطہ خور ٹیمیں مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ ٹیمیں دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر مزید دو لاپتہ افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور سرچ آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف مقامات پر غوطہ خور ٹیمیں تعینات ہیں۔

اہلخانہ شدید اضطراب کا شکار

دوسری جانب مزید دو افراد کے تاحال لاپتہ ہونے کے باعث ان کے اہلخانہ شدید پریشانی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ خاندان کے افراد کی جانب سے ریسکیو ٹیموں سے جلد از جلد لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک باقی لاپتہ افراد کے حوالے سے پیش رفت سامنے نہیں آتی۔

More News