عدالت نے علیمہ خان کی گواہ طلبی کی درخواست مسترد کر دی
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کی جانب سے وفاقی و صوبائی وزرا، میڈیا شخصیات اور دیگر افراد کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو بعد ازاں جاری کر دیا گیا۔
کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔ دوران سماعت علیمہ خان کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور میڈیا سے وابستہ شخصیات سمیت مجموعی طور پر 21 افراد کو بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست پر دلائل دیے گئے۔
یہ درخواست 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کے تناظر میں دائر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزرا اور میڈیا پرسنز کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست محض تاخیری حربہ ہے اور پراسیکیوشن اپنا مقدمہ مکمل طور پر بند کر چکی ہے، اس لیے درخواست کو مسترد کیا جانا چاہیے۔
پراسیکیوٹر نے مزید مؤقف اپنایا کہ عدالت کسی شخص کو بلاوجہ بطور کورٹ گواہ طلب نہیں کر سکتی اور اب مقدمے کے اگلے مرحلے میں علیمہ خان کا صفائی بیان ریکارڈ کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب وکیل صفائی فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو اپنے دفاع میں کسی بھی شخص کو بطور گواہ پیش کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف ٹرائل کے تقاضوں کے مطابق وزرا اور میڈیا شخصیات کی طلبی ضروری ہے کیونکہ 27 نومبر کو ملک کے کسی حصے میں احتجاج نہیں ہوا، جس کی تصدیق میڈیا رپورٹس کے ذریعے ہو سکتی ہے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے آئندہ تاریخ پر علیمہ خان کو اپنا صفائی بیان ریکارڈ کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔
دوسری جانب وکیل فیصل ملک نے عدالتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صفائی کے گواہ پیش کرنا ملزم کا آئینی اور قانونی حق ہے۔








