عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو بجٹ کا بائیکاٹ کریں گے: بیرسٹر گوہر

عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے، بیرسٹر گوہر

اسلام آباد:ویب ڈیسک

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں وفاقی بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر جمعہ تک عمران خان سے ملاقات کا انتظام نہ کیا گیا تو اپوزیشن بجٹ سیشن میں شرکت نہیں کرے گی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود گزشتہ 34 ہفتوں سے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے، جو نہ صرف عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی نفی ہے۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر فوری رولنگ جاری کریں تاکہ پیدا ہونے والا سیاسی اور پارلیمانی تعطل ختم کیا جا سکے۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان قومی اسمبلی کے رکن ہوتے تو وہ بلا تاخیر ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے متعدد بار کوششیں کی گئیں، تاہم اپوزیشن کی جانب سے خاطر خواہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے آئندہ وفاقی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام شدید مہنگائی اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن حکومت کے مجوزہ بجٹ میں عوام کو ریلیف ملنے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ ایک عوام دوست بجٹ کی بنیادی ترجیح مہنگائی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہونی چاہیے، تاہم موجودہ حکومتی پالیسیوں سے ایسی کوئی توقع نظر نہیں آتی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے پارلیمانی اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے ایک روزہ اجلاس پر قومی خزانے سے 6 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوتے ہیں، اس لیے ایوان کو مؤثر انداز میں چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ایوان کا کورم برقرار رکھنے میں مسلسل ناکام رہی ہے، حالانکہ آئینی طور پر یہ ذمہ داری حکومتی بنچوں پر عائد ہوتی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم کی پارلیمنٹ سے غیر حاضری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں وزیراعظم کو خود پارلیمنٹ میں آکر عوامی نمائندوں کے سوالات سننے اور ان کے جوابات دینے چاہئیں۔ ان کے بقول اگر ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوری روایات قائم ہوتیں تو پارلیمنٹ کو اس انداز میں نظر انداز نہ کیا جاتا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے بجٹ اجلاس کے ممکنہ بائیکاٹ کے اعلان نے وفاقی بجٹ کی کارروائی سے قبل سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی آنے والے دنوں میں پارلیمانی عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

More News

Crime

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ ایکسپلوسیو کے دہشتگردی میں استعمال کو روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ بارودی مواد کے دہشتگردی میں استعمال کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ پشاور:سید عدنان خیبرپختونخوا

Read More »