عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دوبارہ دائر، فیصلہ جلد متوقع: رانا ثناء اللہ
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے حکومت نے نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کردی ہے، جس کے فیصلے سے صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کی پابند ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست پر عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق نظرثانی درخواست کا فیصلہ آج یا کل آنے کی توقع ہے، جس کے بعد معاملے کے مختلف قانونی پہلو واضح ہوجائیں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کو اس بات پر تحفظات ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کے کرمنل جسٹس سسٹم پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ ماتحت عدالتوں کے لیے قابلِ عمل مثال بنتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں کیا ہر قیدی کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کا حق حاصل ہوگا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں ماتحت عدالتوں کے پاس ان درخواستوں کو مسترد کرنے کی کیا گنجائش باقی رہے گی۔
وزیراعظم کے مشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل سے اسپتال منتقلی کی مثال بھی پیش کی۔ ان کے مطابق نواز شریف کو جیل سے سرکاری سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے ان کے علاج کے حوالے سے سفارشات پیش کی تھیں۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق میڈیکل بورڈ کی سفارش پر نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی اجازت دی گئی اور بعد ازاں ان کا علاج بیرون ملک ہوا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق فیصلے کے خلاف حکومت کی دائر کردہ درخواست اعتراض کے ساتھ واپس کردی تھی۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے حکومتی نظرثانی درخواست پر اعتراض عائد کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست کے ساتھ پیپر بکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض سامنے آیا تھا۔
حکومت کی جانب سے اب نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کردی گئی ہے اور رانا ثناء اللہ کے مطابق عدالت کے فیصلے کا جلد انتظار کیا جارہا ہے۔
معاملے پر آئندہ عدالتی پیش رفت سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے حکومت کے مؤقف اور قانونی صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔








