غیر قانونی حراست کا معاملہ: متعلقہ پولیس افسر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

غیر قانونی حراست کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ کا متعلقہ پولیس افسر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے کے معاملے پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی شہری کی آزادی، قانونی حقوق اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، جبکہ عدالت کو گمراہ کن معلومات فراہم کرنا بھی ایک سنگین جرم ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے یہ تحریری فیصلہ مقصودہ بی بی کی درخواست پر جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق گلفام علی کو 27 جون 2026 کو باقاعدہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جیل سے رہا کیا گیا تھا، تاہم رہائی کے فوراً بعد سادہ لباس میں ملبوس افراد نے جیل کے باہر سے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی کے دوران نہ کسی قانونی وارنٹ کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ عدالتی حکم پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے انسپکٹر اختر علی نے رپورٹ عدالت میں جمع کروائی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گلفام علی کو اوکاڑہ میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم جسٹس امجد رفیق نے قرار دیا کہ دستیاب ویڈیو شواہد سی سی ڈی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عدالت کے مطابق ویڈیو ریکارڈ اور پولیس رپورٹ کے درمیان واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس سے بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ عدالت کو مکمل اور درست حقائق فراہم نہیں کیے گئے۔

فیصلے میں عدالت نے آبزرویشن دی کہ اگر کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جائے اور بعد ازاں عدالت میں غلط، نامکمل یا گمراہ کن رپورٹ جمع کرائی جائے تو یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک قابلِ دست اندازی جرم بھی ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لازم ہے کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے اختیارات استعمال کریں۔

لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او اوکاڑہ کو ہدایت کی کہ جیل کے باہر سے شہری کو اپنی تحویل میں لینے والے متعلقہ پولیس افسر کے خلاف قانون کے مطابق فوری مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ مقدمے کے اندراج اور تحقیقات سے متعلق پیش رفت رپورٹ مقررہ مدت کے اندر لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی جائے تاکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ شہریوں کی شخصی آزادی، شفاف تفتیش اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابدہی کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ آئین و قانون سے بالاتر ہو کر کسی بھی شہری کو حراست میں رکھنا یا عدالت کو گمراہ کرنا ناقابل قبول عمل ہے۔

More News