لارڈز کی شکست کے بعد پی سی بی میں استعفے، نوٹس اور الزام تراشیاں

لارڈز کی شکست کے بعد پی سی بی میں استعفے، نوٹس اور الزام تراشیاں

لاہور: انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی ناقص کارکردگی نے میدان کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے انتظامی معاملات میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد سلیکشن کمیٹی کے ارکان کے استعفوں، نوٹسز اور ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی نے سلیکٹرز سے وضاحت طلب کی ہے کہ محمد رضوان اور امام الحق کو ٹیم میں کیوں شامل کیا گیا، جبکہ سلیکشن سے قبل ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں تھی۔ سلیکٹرز کو 24 گھنٹوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسی دوران سابق کپتان مصباح الحق اور اسد شفیق سلیکشن کمیٹی سے مستعفی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق مصباح الحق نے ٹیم میں تبدیلیوں پر مشاورت نہ کیے جانے پر احتجاجاً استعفیٰ دیا۔ دوسری جانب عاقب جاوید نے ٹیم کی خراب کارکردگی کی ذمہ داری کپتان بابراعظم اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد پر عائد کردی۔

انگلینڈ کے دورے کے دوران سات کھلاڑیوں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو وطن واپس بھیج دیا گیا، جبکہ ان کی جگہ ایسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے تاحال پاکستان کی نمائندگی نہیں کی۔

سابق پاکستانی کوچ مکی آرتھر نے موجودہ صورتحال کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ درست قیادت، منصوبہ بندی اور مضبوط نظام کے ساتھ پاکستان کرکٹ بہت کچھ حاصل کرسکتی ہے۔

دوسری جانب مصباح الحق کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہیں 2024 میں مینٹور مقرر کیا گیا تھا اور ذرائع کے مطابق وہ ماہانہ 50 لاکھ روپے وصول کر رہے تھے۔ ان پر رضوان اور امام الحق کی سلیکشن کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے۔

یوں انگلینڈ کے دورے میں پاکستان کی شکستوں کے ساتھ پی سی بی کے اندر بھی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ نمایاں ہوگیا ہے۔

More News