محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، مذاکرات کیلیے امریکا کی 5 شرائط، ایران کے جوابی مطالبات

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتہ کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی سلامتی کی صورتِ حال اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدارتی عمارت میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً نوّے منٹ جاری رہی جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی صدارتی عمارت میں مجموعی طور پر تین گھنٹے قیام کیا۔ ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی شریک تھے۔

ایرانی صدر نے اس موقع پر کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو کم کر سکتی ہے۔ انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دے کر کسی بھی بیرونی جارحیت کا مشترکہ مقابلہ کریں۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ نے ایرانی مجلسِ شورٰی کے سربراہ محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے معاشی، ثقافتی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی موجودگی عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے اور علاقائی ممالک کو باہمی اعتماد کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ شرائط عائد کی ہیں۔ ان میں ایران کو جنگی ہرجانہ ادا نہ کرنا، چار سو کلوگرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنا، صرف ایک جوہری تنصیب برقرار رکھنا، منجمد اثاثوں کا پچیس فیصد بھی جاری نہ کرنا اور مذاکرات کو تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط کرنا شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سماجی رابطے کی ویب گاہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اسے جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے ایک تصویر بھی جاری کی جس پر ’’طوفان سے پہلے کی خاموشی‘‘ تحریر تھا۔

ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالثی کے ذریعے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پہنچا دیا ہے۔ تہران کی جانب سے پیش کردہ مطالبات میں تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں جنگ کا خاتمہ، ایران پر عائد پابندیوں کا مکمل خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگی ہرجانے کی ادائیگی اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں ایران کا ردعمل زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔

دریں اثناء متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے الظفرہ کے علاقے میں واقع براکہ جوہری بجلی گھر کے بیرونی حصار کے قریب بغیر پائلٹ طیارے کے حملے کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے والے ایک آلے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔ حکام کے مطابق کسی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم دونوں جانب سخت مؤقف کے باعث مذاکراتی عمل تاحال غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔

More News

Crime

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ ایکسپلوسیو کے دہشتگردی میں استعمال کو روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ بارودی مواد کے دہشتگردی میں استعمال کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ پشاور:سید عدنان خیبرپختونخوا

Read More »