ملک بھر کے بجلی صارفین پر مزید 23 ارب روپے کا بوجھ منتقل کرنے کی تیاری
اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین کو ملنے والا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا ریلیف رواں ماہ ختم ہونے جا رہا ہے، جس کے بعد آئندہ ماہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کی درخواست کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ملک بھر کے بجلی صارفین کو جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 67 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ ریلیف جون 2026 سے صارفین کو دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی تین ماہ کی مدت رواں ماہ اگست میں مکمل ہوجائے گی۔
ریلیف کی مدت ختم ہونے کے بعد اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اگلے ماہ یعنی ستمبر سے صارفین کے بجلی کے بلوں میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس نئی ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے نیپرا میں درخواست جمع کرائی ہے، جس میں صارفین سے 23 ارب روپے سے زائد وصول کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ رقم تقریباً ایک روپے فی یونٹ اضافے کے برابر بنتی ہے، تاہم حتمی اضافے کا تعین نیپرا کی جانب سے درخواست اور متعلقہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی مختلف عوامل کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جن میں بجلی کی پیداوار کی لاگت، ایندھن کی قیمتیں، پیداواری صلاحیت اور دیگر مالی معاملات شامل ہوتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی ضروریات کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔
بجلی صارفین پہلے ہی مہنگے بجلی بلوں اور دیگر سرچارجز کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت مزید بوجھ منتقل ہونے سے گھریلو اور کاروباری صارفین کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاہم بجلی کی قیمت میں حتمی اضافہ ابھی طے نہیں ہوا۔ 23 ارب روپے سے زائد کے بوجھ سے متعلق درخواست پر نیپرا سماعت اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ صارفین پر فی یونٹ کتنا اضافی بوجھ منتقل کیا جائے گا۔








