موسم گرما کی تعطیلات، وادی کاغان میں سیاحوں کی آمد کا نیا ریکارڈ قائم
مانسہرہ: موسم گرما کی تعطیلات کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاحوں نے وادی کاغان کا رخ کر لیا، جہاں گزشتہ روز ایک ہی دن میں ایک لاکھ 9 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے مطابق یہ رواں سیزن میں ایک روز کے دوران سیاحوں کی سب سے زیادہ آمد ہے، جس سے وادی کاغان ایک بار پھر ملک کی مقبول ترین سیاحتی منزل بن گئی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کاغان میں آنے والے سیاحوں میں 30 غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے، جو قدرتی حسن، ٹھنڈے موسم اور دلکش مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں پہنچے۔ رات گئے تک سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث مختلف سیاحتی مقامات پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔
سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ اتھارٹی کا عملہ مختلف اہم مقامات پر موجود ہے تاکہ سیاحوں کو رہنمائی، معلومات اور ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی متعلقہ اداروں کو متحرک رکھا گیا ہے۔
انتظامیہ نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں اور دریائے کنہار، ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں۔ حالیہ دنوں میں دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث کسی بھی قسم کی غیر ضروری مہم جوئی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ وادی کے قدرتی حسن اور ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔ انتظامیہ کے مطابق سیاح کچرا مقررہ مقامات پر پھینکیں، پلاسٹک اور دیگر آلودگی پھیلانے والی اشیا کھلے مقامات پر نہ چھوڑیں اور قدرتی ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ وادی کاغان کا خوشگوار موسم، سرسبز پہاڑ، بہتے جھرنے اور دریائے کنہار کے حسین مناظر ہر سال ہزاروں خاندانوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے سہولیات میں مزید بہتری لائی جائے تو یہ علاقہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی مزید پرکشش بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسم گرما میں سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، مقامی دکانوں اور دیگر کاروباروں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس سے ہزاروں افراد کے روزگار میں بہتری آتی ہے۔








