میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا، والدین اور دیگر کو نوٹسز جاری
کراچی: جوڈیشل کمیشن نے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے مقتول کے اہلخانہ، وکیل جبران ناصر اور سندھ حکومت کے فوکل پرسن کو نوٹسز جاری کردیئے۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے اہلخانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر کو 28 اگست کے لیے طلب کرلیا ہے، جبکہ سندھ حکومت کے فوکل پرسن کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن نے کیس سے متعلق مختلف فریقین سے معلومات اور مؤقف حاصل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری نوٹسز کے بعد تحقیقات کے آئندہ مراحل میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
دوسری جانب میر رضا کے اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر پہلے ہی سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے کو مسترد کرچکے ہیں۔
جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میر رضا کے اہلخانہ جوڈیشل کمیشن کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ذریعے کیس کی تحقیقات چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اہلخانہ کو اعتماد میں لیے بغیر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا جبکہ تحقیقات کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) بھی تاحال عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔
وکیل کے مطابق میر رضا کے اہلخانہ جے آئی ٹی کے قیام کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کی مخالفت بھی کریں گے۔
میر رضا قتل کیس کئی روز گزرنے کے باوجود تاحال حل طلب ہے۔ اہلخانہ مسلسل شفاف، غیرجانبدار اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کیس کے تمام شواہد سامنے لائے جائیں اور تحقیقات ایسے طریقہ کار کے تحت کی جائیں جس پر انہیں مکمل اعتماد ہو۔
اب جوڈیشل کمیشن کی جانب سے فریقین کو نوٹسز جاری کیے جانے کے بعد 28 اگست کی کارروائی کو کیس میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








