مینا خان آفریدی کی بیرون ملک روانگی، پشاور ہائیکورٹ کا اہم حکم
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام بیرون ملک روانگی سے روکنے کے لیے مختلف فہرستوں میں شامل کیے جانے کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق متعلقہ اعلیٰ حکام عدالت میں پیش ہوکر مینا خان آفریدی کا نام مختلف فہرستوں میں شامل کیے جانے سے متعلق وضاحت پیش کریں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران مینا خان آفریدی کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر کو آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے برطانیہ کے دورے کی دعوت دی گئی ہے، تاہم ان کا نام بیرون ملک روانگی سے روکنے کے لیے مختلف فہرستوں میں شامل کیا گیا۔
وکیل کے مطابق اس سے قبل مینا خان آفریدی سرکاری دورے پر جرمنی روانہ ہورہے تھے تو ان کا نام پی این آئی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔ اس موقع پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے عدالت میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار کا نام صرف پی این آئی ایل میں شامل ہے اور کسی دوسری فہرست میں ان کا نام موجود نہیں۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کی جانب سے مینا خان آفریدی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی، تاہم اس کے بعد حکومت نے دوبارہ ان کا نام دوسری فہرست میں شامل کردیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر کا نام کبھی ایک اور کبھی دوسری فہرست میں شامل کیا جارہا ہے، جس سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات پیدا ہورہے ہیں۔
عدالت نے وفاقی حکومت کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تینوں متعلقہ اعلیٰ افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اور معاملے پر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کردی۔








