میٹرک نتائج: پشاور بورڈ کے ہزاروں طالب علم آخر کس مضمون میں ناکام ہوئے؟

میٹرک نتائج: پشاور بورڈ کے ہزاروں طالب علم آخر کس مضمون میں ناکام ہوئے؟

پشاور: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بی آئی ایس ای) پشاور کے میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج میں مجموعی کامیابی کی شرح توقع سے کم رہی، جبکہ نتائج کے تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ریاضی (Mathematics) وہ مضمون رہا جس میں سب سے زیادہ طلبہ ناکام ہوئے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق ریاضی میں کمزور کارکردگی نے مجموعی نتائج پر بھی نمایاں اثر ڈالا ہے۔

بورڈ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں طلبہ ریاضی کے پرچے میں مطلوبہ نمبر حاصل نہ کر سکے، جس کے باعث بڑی تعداد میں امیدوار امتحان پاس کرنے سے محروم رہے۔ اس صورتحال نے والدین، اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ ریاضی کی تدریس کے معیار اور امتحانی تیاری کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ریاضی ایک بنیادی مضمون ہے، جس میں کمزور بنیادیں طلبہ کی مجموعی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ریاضی کی تدریس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اساتذہ کی تربیت بہتر بنانے اور طلبہ کے لیے اضافی معاون کلاسز کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تعلیمی ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امتحانات سے قبل طلبہ کی بہتر رہنمائی، ماڈل پیپرز، پریکٹس سیشنز اور تصوراتی (Concept-Based) تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ رٹنے کے بجائے طلبہ کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہو۔ ان کے مطابق ریاضی میں مضبوط بنیاد نہ صرف بورڈ امتحانات بلکہ اعلیٰ تعلیم میں بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

دوسری جانب پشاور بورڈ کے نتائج میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ اور پوزیشن ہولڈرز کو مبارکباد دی جا رہی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں میں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں تقریبات کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم کم کامیابی کی شرح نے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ والدین، اساتذہ، بورڈ انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ آئندہ برسوں میں خصوصاً ریاضی جیسے اہم مضمون میں طلبہ کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے نصاب، تدریسی طریقوں اور امتحانی نظام کا بھی ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

More News