نجی اسکولوں میں 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم دینے کی شرط پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف

نجی اسکولوں میں 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم نہ دینے کا انکشاف، قائمہ کمیٹی کا سخت ایکشن

لاہور: پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اسکول ایجوکیشن کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے کے متعدد نجی اسکول قانون کے باوجود مستحق بچوں کو 10 فیصد مفت تعلیم فراہم کرنے کی شرط پر عمل نہیں کر رہے۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو 10 روز کے اندر قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین قائمہ کمیٹی نے واضح کیا کہ جو نجی تعلیمی ادارے قانون کے مطابق 10 فیصد مستحق بچوں کو مفت تعلیم فراہم نہیں کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر ان کے لائسنس بھی منسوخ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور نجی اسکولوں کو بھی اس حوالے سے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

کمیٹی کے اجلاس میں ایک رکن نے تجویز پیش کی کہ صرف نجی اسکولوں کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے محکمہ اسکول ایجوکیشن خود مستحق بچوں کی نشاندہی کرے اور انہیں نجی اسکولوں میں داخل کروانے کا نظام وضع کرے، تاکہ اس سہولت کا حقیقی فائدہ مستحق طلبہ تک پہنچ سکے۔

اس موقع پر سیکرٹری اسکول ایجوکیشن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے بھر کے نجی اسکولوں سے 10 فیصد مفت تعلیم سے متعلق مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اداروں کی جانچ پڑتال کے بعد قانون پر عمل نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب لاہور میں غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے 213 نجی اسکولوں کو سیل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو سمری ارسال کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ وہ ادارے ہیں جنہوں نے بارہا ہدایات کے باوجود رجسٹریشن مکمل نہیں کروائی۔

سی ای او ایجوکیشن طارق محمود نے بتایا کہ 744 نجی اسکولوں کو پہلے ہی رجسٹریشن کے لیے حتمی وارننگ جاری کی جا چکی ہے، تاہم متعدد ادارے اب بھی قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تمام اسکولوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 10 فیصد مفت تعلیم کی شرط پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو ہزاروں مستحق بچے معیاری نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں گے، جبکہ غیر رجسٹرڈ اسکولوں کے خلاف کارروائی سے تعلیمی نظام میں شفافیت اور معیار کو بھی فروغ ملے گا۔

More News