شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال سمیت اہم امور پر چینی قیادت سے بات چیت کریں گے۔ وزیراعظم اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں چین کے شہر ہانگژو پہنچے، جہاں ان کا استقبال چینی حکام اور پاکستانی سفارتی عملے نے کیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی چین گیا ہے جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔ وفد کے اس دورے کو پاک چین تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 23 مئی سے 26 مئی تک چین میں قیام کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی روابط کو مزید مضبوط بنانا، اقتصادی تعاون کو فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
دورے کے دوران وزیراعظم ہانگژو میں ژجیانگ صوبے کے پارٹی سیکرٹری سے ملاقات کریں گے جبکہ مختلف کاروباری اور سرمایہ کاری سرگرمیوں میں بھی شرکت کریں گے۔ ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے وفود چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) فیز ٹو کے تحت تعاون بڑھانے کے لیے بزنس فورمز، معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریبات میں شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف معروف چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔ وزیراعظم چینی کمپنیوں کے ہیڈکوارٹرز اور چائنہ اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز کا دورہ بھی کریں گے جہاں زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بعد ازاں وزیراعظم بیجنگ روانہ ہوں گے جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ہوگی۔ ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال، پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری، سی پیک منصوبوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو متوقع ہے۔
مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی پچھترویں سالگرہ کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کی تاریخی دوستی اور باہمی تعاون کو اجاگر کیا جائے گا۔








