وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع خیبر میں داخلہ مہم ناکام، 41 ہزار کے ہدف میں صرف 13 فیصد بچوں کا داخلہ
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت کی اسکول داخلہ مہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک رہی، جہاں مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف 13 فیصد بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کیا جا سکا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ضلع خیبر میں 41 ہزار 360 نئے داخلوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب تک صرف 5 ہزار 314 بچوں کا داخلہ ممکن بنایا گیا، جبکہ تقریباً 87 فیصد ہدف تاحال حاصل نہیں ہو سکا۔
صوبائی سطح پر محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولوں میں 11 لاکھ 61 ہزار 203 نئے طلبہ کے داخلے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صرف 4 لاکھ 22 ہزار 899 بچوں کا داخلہ ہوا، جو مجموعی ہدف کا 38 فیصد بنتا ہے۔
اس کے برعکس نجی تعلیمی اداروں نے 3 لاکھ 98 ہزار 587 طلبہ کے ہدف کے مقابلے میں 4 لاکھ 21 ہزار 999 نئے طلبہ کو داخل کرکے اپنا ہدف بھی عبور کر لیا۔
دستاویزات کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کے لیے مجموعی طور پر 19 لاکھ 72 ہزار 338 نئے داخلوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب تک صرف 8 لاکھ 90 ہزار 302 داخلے رپورٹ ہوئے، جس کے باعث مجموعی کامیابی کی شرح 47 فیصد رہی۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق سرکاری اسکولوں میں سمسٹر نظام، تعلیمی سیشن میں تاخیر اور درسی کتب کی بروقت عدم فراہمی داخلہ مہم کی ناکامی کی اہم وجوہات ہیں۔
سرکاری اسکولوں کی کمزور کارکردگی اور مبینہ غلط انرولمنٹ ڈیٹا سامنے آنے پر صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو طلب کرکے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر انرولمنٹ ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے، ہر طالب علم کی مکمل پروفائل تیار کرنے اور جعلی اعداد و شمار کے خاتمے کے لیے سخت ہدایات جاری کیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے اپنے آبائی ضلع میں داخلہ مہم کی کمزور کارکردگی صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور لاکھوں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔








