وفاقی بجٹ 27-2026، تنخواہوں میں اضافہ، دفاع کیلئے 3 ہزار ارب مختص، ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے ہوگا

اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد، مہنگائی کی اوسط شرح 8.2 فیصد متوقع، وفاقی بجٹ 18 ہزار 771 ارب روپے کا پیش

اسلام آباد:ویب ڈیسک

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ برس معاشی استحکام کے حصول کے لیے اہم اقدامات کیے جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ آئندہ مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد تک پہنچ جائے گی جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برس متعدد معاشی اور سفارتی چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو مزید مستحکم بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات کے باعث ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو ملکی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی فرد آمدنی بھی گزشتہ سال کے 1751 ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے، جو عوامی آمدنی میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں مضبوط دفاعی صلاحیت ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت نہ صرف قومی ضروریات پوری کررہی ہے بلکہ زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے اور کئی ممالک پاکستانی دفاعی سازوسامان میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی بہتری، روزگار کے مواقع میں اضافہ، توانائی، تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق صنعتوں اور خدمات کے شعبے میں بہتری ملکی معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور کاروباری ماحول کے استحکام کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔

اپنی تقریر میں وزیر خزانہ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور بین الاقوامی حالات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 128 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بوجھ مکمل طور پر عوام پر منتقل کیا جاتا تو ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی بحرانوں کے دوران بھی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی اور حکومت نے صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کیے۔ وزیر خزانہ کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ بھی عوام تک منتقل کیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے خارجہ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی جہت دی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مختلف شعبوں میں مزید وسعت اختیار کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی رفتار کو تیز کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا اور عوامی زندگی میں بہتری لانا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ انہی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بجٹ میں دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جبکہ حکومت کو امید ہے کہ جاری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ سے آئندہ برس ملکی معیشت مزید مضبوط ہوگی اور معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

More News