پاکستان مذاکرات کیلئے تیار، شرط دہشتگردوں کی حوالگی افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر
اسلام آباد:سید عدنان
اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے، تاہم اس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے لیے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اہم ہے یا پاکستان کے ساتھ تعلقات۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اس وقت دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں مختلف تنظیموں کو جگہ دی جا رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے حالیہ کارروائیاں افغان طالبان کے 53 حملوں کے ردعمل میں کیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج سائٹس کو ٹارگٹ کیا گیا، اور سویلین ہلاکتوں سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں بلکہ دیگر بین الاقوامی شدت پسند گروہوں کو بھی افغانستان آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث عناصر کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشت گردی کی جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والے کئی حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں جبکہ سرحد پار دہشت گردی میں کمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ خود بھی مشکلات کا شکار ہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھاتا رہے گا۔








