پاکستان کا اقوام متحدہ میں فلسطین کے حق میں مؤقف، اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ
نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے فلسطینی عوام کو حقِ خودارادیت دینا ضروری ہے۔ انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہونا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع، فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اور جبری بے دخلی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے مطابق غیر قانونی آبادکاری روکنے اور آبادکاروں کے تشدد کے خاتمے پر زور دیا۔
عثمان جدون نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے امداد کی بلا تعطل فراہمی، تعمیرِ نو اور اقوام متحدہ کے امدادی ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے مالیاتی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
پاکستان نے اپنے خطاب میں سعودی عرب کی اقتصادی اور شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی بھی مذمت کی اور انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی مندوب نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے یمن میں پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی۔
پاکستان نے واضح کیا کہ فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل دو ریاستی فارمولے کے تحت ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے وابستہ ہے۔








