پاکستان کے محافظ: دہشتگردی کے خلاف عزم و قربانی کی مثال
اسلام آباد:ویب ڈیسک
پاکستان دو دہائیوں سے دہشتگردی کی لعنت کے خلاف نبرد آزما ہے، اور اس جنگ میں ملک کے فوجی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عوام اور وطن کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔ یہ محض سرحدوں یا سیکیورٹی کی جنگ نہیں بلکہ امن، قانون اور معاشرے کے تحفظ کی جنگ ہے، جس میں ہر محافظ کی قربانی وطن کے لیے امید کی روشنی بن چکی ہے۔
فروری 2023 میں پولیس لائنز پشاور میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد دورے کے دوران چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر زمین میں فساد اور دہشتگردی پھیلاتے ہیں، انہیں ریاستی طاقت اور قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ فیلڈ مارشل نے زور دے کر کہا کہ ایمان اور قانون کے راستے پر کھڑے سپاہیوں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
اسی جذبے کو اجاگر کرتے ہوئے سابق آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے کہا کہ وردی محض ایک ملازمت نہیں، بلکہ عوام کے تحفظ کے لیے دی جانے والی ہر قربانی کا عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عناصر جو اسلام کے نام پر دہشتگردی اور فساد پھیلاتے ہیں، دراصل دین اور انسانیت دونوں کے دشمن ہیں، اور یہی خوارج ہیں۔
پاکستان کی فوج، پولیس اور دیگر ادارے مشترکہ عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ وطن کا دفاع، عوام کا تحفظ اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ان سب کی اولین ترجیح ہے۔ قوم کے محافظوں کا عزم واضح ہے: خوارج اور دہشتگرد عناصر کے خلاف یہ جنگ جاری رہے گی، جب تک ملک میں امن اور استحکام مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا۔
ہر محافظ کی قربانی، ہر لمحہ جان کی بازی، اور ہر عزم یہ یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت صرف ایک فرض نہیں، بلکہ محبت اور ایمان کی سب سے بڑی مثال ہے۔








