پشاور یونیورسٹی کے ملازمین کا تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر احتجاج، انتظامی بلاک کو تالے لگا دیے
پشاور(نیوز ڈیسک )پشاور یونیورسٹی کے ملازمین نے دو ماہ سے تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی تین ماہ سے پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے انتظامی بلاک کو تالے لگا دیے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں جبکہ ریٹائرڈ ملازمین تین ماہ سے پنشن سے محروم ہیں، جس کے باعث مہنگائی کے اس دور میں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ملازمین کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد بار صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا، تاہم تاحال کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بقایا تنخواہیں اور پنشن فوری طور پر ادا کی جائیں۔
احتجاج کے دوران ملازمین نے انتظامی عمارت کو تالے لگا کر یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ادارے کے مالی بحران کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ ملازمین کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن، کلاس تھری، کلاس فور اور سینی ٹیشن ورکرز یونین نے مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا تھا کہ اگر 8 جولائی تک جون 2026 کی تنخواہیں، پنشن اور دیگر واجبات ادا نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔
یونین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تنخواہوں اور پنشن کی مسلسل تاخیر کے باعث ملازمین بنیادی اخراجات، بچوں کی تعلیمی فیس، قرضوں کی ادائیگی اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا احتجاج ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہے۔
ملازمین نے صوبائی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مزید تاخیر سے گریز کرتے ہوئے تمام واجبات فوری ادا کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔







