پی ٹی آئی دور حکومت میں اسلام آباد میں آتشزدگی کے 16 سے زائد بڑے واقعات سامنے آگئے
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو آتشزدگی کے 16 سے زائد سنگین واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سرکاری و حساس عمارتوں، تجارتی مراکز، رہائشی علاقوں اور مارگلہ ہلز کے جنگلات کو نقصان پہنچا۔
24 اکتوبر 2018 کو زیرو پوائنٹ پر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی عمارت میں آگ لگی، جبکہ 8 اپریل 2019 کو وزیراعظم آفس اور 17 فروری 2020 کو پارلیمنٹ لاجز میں بھی آتشزدگی کے واقعات پیش آئے۔
تجارتی مراکز میں 3 جولائی 2019 کو آبپارہ اتوار بازار، 29 اکتوبر 2019 کو H-9 ہفتہ وار بازار، 10 جنوری 2020 کو I-8 مرکز اور 29 دسمبر 2021 کو بلیو ایریا کے غوثیہ پلازہ میں آگ لگی۔
رہائشی علاقوں میں بھی مختلف واقعات رپورٹ ہوئے۔ 10 جون 2019 کو G-9/3 میں آتشزدگی سے 4 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 10 مئی 2020 کو G-10/2 کی ایک رہائش گاہ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔
مارگلہ ہلز کے جنگلات بھی متعدد مرتبہ آگ کی لپیٹ میں آئے۔ جون 2019، 17 جون اور 19 اکتوبر 2020 کو جبری کے مقام سمیت مختلف علاقوں میں آگ لگی۔ اپریل 2021 میں لوئی ڈنڈی اور F-9 کے علاقوں جبکہ مئی 2021 میں تلہار، سید پور اور پیر سوہاوہ میں بھی آتشزدگی کے واقعات پیش آئے۔
12 دسمبر 2021 کو بوڈو بن میں لگنے والی آگ نے بھی جنگلات کو متاثر کیا۔ ماضی کے یہ واقعات اسلام آباد میں فائر سیفٹی، ہنگامی ردعمل اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔







