پی ٹی آئی دور میں محکمہ ہائر ایجوکیشن کی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے نیب سے مدد طلب
اسلام آباد:ویب ڈیسک
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ون نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں محکمہ ہائر ایجوکیشن میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور فنڈز کے غلط استعمال کی تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) سے باضابطہ مدد طلب کر لی ہے۔ کمیٹی نے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی مبینہ مالی بے قاعدگیوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نیب کو تحقیقات مکمل کرنے اور تین ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کے اجلاس میں محکمہ ہائر ایجوکیشن سے متعلق متعدد مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران آڈٹ حکام کی جانب سے پیش کیے گئے ریکارڈ اور اعتراضات کی روشنی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر غور کیا گیا، جن میں سرکاری فنڈز کے استعمال، مالی قواعد کی خلاف ورزیوں اور ٹھیکوں کی تقسیم کے معاملات شامل تھے۔
کمیٹی نے خاص طور پر ان الزامات پر تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق بعض منصوبوں میں غیر قانونی طور پر ٹھیکے دیے گئے اور مالی ضوابط کو نظر انداز کیا گیا۔ ارکان کمیٹی کا مؤقف تھا کہ اگر سرکاری وسائل کے استعمال میں کسی قسم کی بدعنوانی یا بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
اجلاس میں محکمہ ہائر ایجوکیشن سے متعلق 50 آڈٹ پیراز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان آڈٹ اعتراضات میں مختلف مالی اور انتظامی امور کی نشاندہی کی گئی تھی جن پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی گئی۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تمام اعتراضات کا بروقت اور تسلی بخش جواب دیا جائے تاکہ سرکاری اداروں میں احتساب اور شفافیت کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے نیب کو ہدایت کی ہے کہ وہ مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کرے اور تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ مرتب کرکے کمیٹی کو پیش کرے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کارروائی اور ذمہ دار افراد کے خلاف ممکنہ اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران اسپیشل ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (SDAC) کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ آڈٹ اداروں اور متعلقہ کمیٹیوں کی سفارشات پر بروقت عمل نہ ہونے سے مالی نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے اور سرکاری اداروں میں شفافیت کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور آڈٹ اعتراضات کے ازالے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی وسائل کے تحفظ اور ان کے درست استعمال کو یقینی بنانا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ اس مرحلے پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین نیب کی تحقیقاتی رپورٹ اور متعلقہ شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا








