سولر صارفین کی حوصلہ شکنی، کم بجلی استعمال کرنے والوں پر زیادہ فکسڈ چارجز لگانے کی تجویز

حکومت کا نیا بجلی ٹیرف منصوبہ، کم استعمال پر زیادہ چارجز اور سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کا خدشہ

اسلام آباد:ویب ڈیسک

حکومت نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نئے ٹیرف کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر زیادہ فکسڈ چارجز عائد کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد قومی گرڈ سے منسلک صارفین، خصوصاً صنعتوں، کو بجلی کے نظام سے وابستہ رکھنا اور سولر توانائی کی جانب تیزی سے بڑھتے رجحان کو محدود کرنا ہے۔

پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں متعدد صنعتی یونٹس بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سولر توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی آ رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ گرڈ کے انفراسٹرکچر، ترسیلی نظام اور دیگر مستقل اخراجات بدستور برقرار رہتے ہیں، چاہے بجلی کا استعمال کم ہو یا زیادہ۔ اسی وجہ سے حکومت ایک ایسا ٹیرف متعارف کروانے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے کم بجلی استعمال کرنے والے صنعتی صارفین سے زیادہ فکسڈ چارجز وصول کیے جا سکیں۔

ذرائع کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی آئندہ دو ماہ کے اندر نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔ اس منصوبے کے تحت زیادہ بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ قومی گرڈ سے منسلک رہیں۔ اطلاعات ہیں کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ تک لانے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے برآمدی اور پیداواری شعبوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی شیئر کیا جا چکا ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت سے ان صنعتوں کا تفصیلی ڈیٹا طلب کیا ہے جو قومی گرڈ سے بجلی کا استعمال کم کر رہی ہیں یا مکمل طور پر سولر توانائی اور دیگر متبادل ذرائع پر منتقل ہو چکی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کی طلب، آمدنی اور توانائی کے شعبے پر پڑنے والے مالی اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس نئے ٹیرف کا اطلاق صرف صنعتی صارفین پر کیا جائے گا۔ تاہم مستقبل میں اسے کمرشل اور گھریلو صارفین تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین اور وہ افراد جنہوں نے سولر سسٹم نصب کر رکھے ہیں، انہیں بھی اضافی فکسڈ چارجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئی پالیسی سے بجلی کی مجموعی طلب میں تقریباً ایک ہزار میگاواٹ اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے قومی گرڈ کی مالی حالت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ حکام کے مطابق بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، اور اگر زیادہ صارفین گرڈ سے الگ ہو جائیں تو اس کا بوجھ باقی صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب توانائی کے ماہرین اور بعض صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ کم استعمال پر زیادہ فکسڈ چارجز عائد کرنے کی پالیسی صارفین کے لیے اضافی مالی بوجھ کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق سولر توانائی کی حوصلہ شکنی کے بجائے حکومت کو قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور قومی گرڈ کی بہتری کے لیے متوازن حکمت عملی اپنانا چاہیے۔

نئے ٹیرف منصوبے کے حتمی خدوخال اور اطلاق کے طریقہ کار کے حوالے سے ابھی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم مجوزہ پالیسی نے صنعتی شعبے، توانائی ماہرین اور سولر صارفین میں بحث چھیڑ دی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

More News

Crime

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ ایکسپلوسیو کے دہشتگردی میں استعمال کو روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ بارودی مواد کے دہشتگردی میں استعمال کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ پشاور:سید عدنان خیبرپختونخوا

Read More »