ڈیجیٹل آگاہی صرف مہمات تک محدود نہیں، تعلیمی نظام میں تبدیلی ضروری ہے، عطا اللہ تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل آگاہی کو صرف چند روزہ مہمات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ضروری ہیں۔
اسلام آباد میں سائبر سیکیورٹی آگاہی ویک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی سطح پر ڈیجیٹل لٹریسی کو لازمی نصاب کا حصہ بنایا جائے جبکہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل لٹریسی سیلز بھی قائم کیے جائیں تاکہ طلبہ کو جعلی خبروں، سائبر حملوں، مالی فراڈ اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے نیشنل سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، پی ٹی اے، این سی سی اے، سمپرا اور اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل تحفظ کے لیے سال کے 365 دن آگاہی اور اصلاحات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور نوجوان نسل کو بھی اس قومی کوشش کا حصہ بنانا ہوگا۔








