بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ ملنا چاہیے، وسائل وزیراعلیٰ کی صوابدید پر خرچ ہوتے ہیں: رانا ثنااللہ
اسلام آباد: مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے باوجود شہری مسائل حل نہیں ہو سکے کیونکہ اصل مسئلہ بلدیاتی انتخابات کا نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 140 اے پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام “ریڈ لائن ود طلعت” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ملک میں بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتوں کو مکمل آئینی تحفظ حاصل نہیں، جس کے باعث صوبائی حکومتیں جب چاہیں ان اداروں کو تحلیل کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بلدیاتی اداروں کو مضبوط اور بااختیار نہیں بنایا جاتا، عوامی مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔ ان کے بقول صوبائی حکومتوں کے پاس موجود وسائل وزیراعلیٰ کی صوابدید پر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی اختیارات نہ ملنے کی وجہ سے عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی کے لیے آگے بڑھے تو وہ اپنی جماعت کی قیادت کو بھی اس حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ وفاق کے مقابلے میں صوبوں کے پاس زیادہ مالی وسائل موجود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط اور فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام جیسا بھی ہو، اسے تسلسل کے ساتھ چلنا چاہیے تاکہ عوام کو نچلی سطح پر بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔








