انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام، خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کی حمایت
پشاور: خیبر پختونخوا کے نوجوانوں نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے بننے سے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم ہوں گے اور شہریوں کو حکومتی اداروں تک رسائی میں آسانی ملے گی۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ بڑے صوبے میں دور دراز علاقوں کے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔ اگر نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو عوام کو اپنے علاقوں میں ہی بہتر انتظامی، عدالتی اور پولیس سہولیات میسر آسکتی ہیں۔
نوجوانوں کے مطابق بنوں اور لکی مروت جیسے علاقوں کی مجموعی آبادی لاکھوں میں ہے، جبکہ پشاور سے ان علاقوں کا فاصلہ بھی کافی زیادہ ہے، جس کے باعث عوام کے لیے صوبائی دارالحکومت تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے ہر علاقے کی ترقی پر زیادہ توجہ دی جاسکے گی، معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور روزگار سمیت ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
نوجوانوں نے کہا کہ ہر صوبے میں اپنی اسمبلی، وزیراعلیٰ اور وزراء ہوں تو عوام اپنے منتخب نمائندوں سے براہِ راست رابطہ کرکے امن و امان، معیشت، ترقی اور گڈ گورننس سے متعلق مسائل مؤثر انداز میں اٹھا سکیں گے۔







