چھبیس نومبر متاثرین کے لیے آنے والے مبینہ 38 کروڑ روپے کہاں گئے؟ شیر افضل مروت کے سوال پر شفیع جان لاعلم

چھبیس نومبر متاثرین کے لیے آنے والے مبینہ 38 کروڑ روپے کہاں گئے؟ شیر افضل مروت کے سوال پر شفیع جان لاعلم

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف میں 26 نومبر کے واقعات سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے بیرون ملک سے آنے والی مبینہ 38 کروڑ روپے کی رقم کی تقسیم کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے رقم کی تقسیم پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جن متاثرہ خاندانوں، جاں بحق افراد کے لواحقین اور گرفتار کارکنوں کی مدد کے لیے یہ رقم بھیجی گئی تھی، انہیں تاحال اس رقم میں سے کوئی مالی امداد نہیں ملی۔

نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی رہنما شفیع جان سے سوال کیا کہ 26 نومبر کے متاثرین کے لیے بیرون ملک سے موصول ہونے والی مبینہ 38 کروڑ روپے کی رقم کہاں خرچ ہوئی۔

شیر افضل مروت نے استفسار کیا کہ آیا یہ رقم پارٹی کو موصول ہوئی تھی یا نہیں، اور اگر موصول ہوئی تو اسے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر شفیع جان نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ مذکورہ رقم کس نے بھیجی، کس نے وصول کی اور کہاں خرچ کی گئی۔ ان کے مطابق اس معاملے پر پارٹی کی متعلقہ قیادت یا انفارمیشن سیکریٹری بہتر وضاحت کرسکتے ہیں۔

شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ مبینہ 38 کروڑ روپے پارٹی کے اپنے لوگوں نے وصول کیے تھے۔ ان کے مطابق یہ رقم فروری 2025 میں 7 سے 8 اقساط کی صورت میں موصول ہوئی اور ابتدا میں خدیجہ شاہ کے پاس پہنچی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ متاثرہ خاندانوں میں رقم تقسیم کیے جانے سے متعلق دعوے کیے گئے، تاہم ان کے رابطے میں موجود متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ انہیں مذکورہ رقم میں سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔

مبینہ 38 کروڑ روپے کی رقم سے متعلق سوالات کے بعد پارٹی کے اندر اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور مکمل وضاحت کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔

More News