گل پلازہ آتشزدگی کیس کا چالان عدالت میں جمع، تنویر پاستا مرکزی ملزم قرار
کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں گل پلازہ آتشزدگی کیس کا تفصیلی چالان جمع کرا دیا گیا، تفتیشی حکام نے تنویر پاستا کو مقدمے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے جبکہ کیس میں 85 گواہوں کی فہرست بھی عدالت میں پیش کردی گئی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سانحہ گل پلازہ سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، اس موقع پر تنویر پاستا سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے پولیس کی جانب سے تیار کردہ چالان عدالت میں جمع کرایا۔
تفتیشی چالان میں تنویر پاستا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ چالان کے مطابق تنویر پاستا، رمضان، نعمت اللہ اور عمار اسماعیل ضمانت پر ہیں، جبکہ ملزم امین کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے چالان میں سانحہ گل پلازہ کے دوران 72 افراد کے جاں بحق ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مقدمے کی تفتیش کے دوران مختلف افراد کے بیانات اور دیگر شواہد کو بھی کیس کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ عدالت میں 85 گواہوں کی فہرست پیش کی گئی ہے۔
چالان میں 11 سالہ حذیفہ کا نام ملزمان کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ تفتیشی حکام نے حذیفہ سے متعلق مقدمہ مرکزی کیس سے الگ کردیا ہے اور اس کا چالان نابالغ ملزمان سے متعلق مقدمے کے طور پر عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔
عدالت میں پیش کیے گئے چالان کے مطابق گل پلازہ سانحے میں جانی نقصان کے حوالے سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمے کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ مرکزی مقدمے میں نامزد ملزمان کی قانونی حیثیت بھی چالان میں واضح کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ اور چالان کا جائزہ لیا، بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
گل پلازہ آتشزدگی کا مقدمہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باعث انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے، جبکہ چالان میں مرکزی ملزم کی نامزدگی اور 85 گواہوں کی فہرست پیش کیے جانے کے بعد کیس میں آئندہ عدالتی کارروائی اہم قرار دی جارہی ہے۔








