حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت، پولیس افسران اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند

حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت، پولیس افسران اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند

راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، تفتیشی ٹیم نے وقوعہ کے روز اطلاع ملنے سے لے کر جائے وقوعہ پر پولیس کی آمد، حنا جاوید کی نعش ملنے، شواہد اکٹھے کرنے اور نعش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کرنے تک وہاں موجود پولیس افسران، اہلکاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کرنا شروع کردیئے ہیں۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق حنا جاوید قتل کیس نور مقدم قتل کیس کی طرز پر ایک ہائی پروفائل مقدمہ ہے، تاہم قتل کا مقدمہ ہائی پروفائل نہ بھی ہو تو تفتیش میں معمولی سے معمولی پہلو اور نقطے کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔

پولیس افسر کے مطابق کیس کی تفتیش انتہائی احتیاط سے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری ہے، جبکہ تفتیش میں فرانزک شواہد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ڈی این اے سمیت تمام فرانزک رپورٹس کا انتظار کیا جارہا ہے، جن کے موصول ہونے کے بعد تفتیش کو حتمی سمت دینے میں مدد ملے گی۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں خصوصی تفتیشی ٹیم کیس کی نگرانی کررہی ہے۔ تفتیشی ٹیم نے وقوعہ کے روز سب سے پہلے پولیس کو اطلاع ملنے کے وقت سے تحقیقات کا دائرہ آگے بڑھایا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ اطلاع کس نے دی، پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر کب پہنچے، وہاں کون کون موجود تھا اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر کیا صورتحال دیکھی۔

تفتیشی ٹیم نے چوکی طارق آباد کے عملے، جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والے اے ایس آئی اور بعد میں آنے والے دیگر پولیس افسران و اہلکاروں کو الگ الگ طلب کرکے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

پولیس افسران کے بیانات کے مطابق انہیں مقتولہ کے سسر کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ گھر میں چور داخل ہوگئے ہیں۔ پولیس موقع پر پہنچی تو گھر کے دروازوں کے لاکس اور ہینڈل ٹوٹے ہوئے تھے۔ وہاں موجود ملازم نے پولیس کو بتایا کہ ایک شخص گھر سے باہر بھاگا جبکہ ایک شخص اندر موجود ہے۔

پولیس اہلکار گھر کے اندر داخل ہوئے تو کمرے کے باتھ روم سے حنا جاوید کی نعش برآمد ہوئی۔ تفتیشی ٹیم اب جائے وقوعہ پر موجود افراد کے بیانات، پولیس کی ابتدائی کارروائی اور موقع سے حاصل کیے گئے شواہد کا باہمی موازنہ کررہی ہے۔

پولیس نے فرانزک تحقیقات کے لیے حنا جاوید کے کپڑے، ہاتھ اور کمر باندھنے کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا، چہرے پر رکھا گیا کپڑا، نعش کو باتھ روم کے شاور سے باندھنے کے لیے استعمال ہونے والی تار، فرش پر موجود خون کے نمونے، گھر میں موجود افراد کے موبائل فون اور مختلف اشیا و مقامات سے حاصل کیے گئے فنگر پرنٹس سمیت متعدد شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق فرانزک کے لیے تقریباً 19 پارسل بھی بھیجے گئے ہیں، جن میں مختلف نوعیت کے شواہد شامل ہیں۔ مقتولہ کے سسر، شوہر اور ملازم کے ڈی این اے، پولی گراف اور دیگر ضروری ٹیسٹ بھی کرائے جاچکے ہیں۔

کیس میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر امام اور ملازم زیشان ارشد کو پولیس نے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیش میں شامل رکھا تھا، بعد ازاں دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل اڈیالہ منتقل کردیا گیا۔ مقدمے میں نامزد تیسرے ملزم اور مقتولہ کے سسر اصغر فیاض امام کی گرفتاری تاحال زیر التوا ہے۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق تفتیشی ٹیم اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کیس کے کسی بھی اہم پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ پولیس کی درخواست پر پراسیکیوشن برانچ کے ماہرین کو بھی تفتیشی عمل میں شامل کیا گیا ہے تاکہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیے جانے والے چالان میں کوئی قانونی یا تفتیشی سقم باقی نہ رہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد شواہد کا تجزیاتی جائزہ مزید آگے بڑھایا جائے گا اور ان رپورٹس سے کیس کی تفتیش کو حتمی سمت دینے میں اہم مدد ملنے کی توقع ہے۔

More News