عوام کو سرکاری ٹی بلز اور بانڈز کی خرید و فروخت کی اجازت دینے کا منصوبہ

عوام کو سرکاری ٹی بلز اور بانڈز کی خرید و فروخت کی اجازت دینے کا منصوبہ

اسلام آباد: عوام کو سرکاری ٹی بلز اور بانڈز اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے براہِ راست خریدنے اور فروخت کرنے کی اجازت دینے کا منصوبہ سامنے آگیا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان میں بانڈ مارکیٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایکشن پلان جاری کردیا گیا ہے، جس میں مختلف اقدامات کے لیے ستمبر 2028 تک کی ڈیڈ لائنز مقرر کی گئی ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق ایکشن پلان کا مقصد حکومتی سیکیورٹیز کی مارکیٹ کو مزید فعال، شفاف اور وسیع بنانا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو سرکاری قرضہ جاتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے زیادہ مواقع فراہم کیے جاسکیں۔

منصوبے کے تحت عام سرمایہ کاروں کو بھی سرکاری ٹی بلز اور بانڈز کی خرید و فروخت کے لیے اسٹاک مارکیٹ کے نظام سے جوڑنے پر کام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کو روایتی بینکنگ نظام کے علاوہ کیپیٹل مارکیٹ کے ذریعے بھی حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی سہولت مل سکے گی۔

ایکشن پلان میں بانڈ مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور مارکیٹ میں شفافیت بڑھانے سے متعلق مختلف اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ حکومتی سیکیورٹیز کی خرید و فروخت کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

منصوبے کے تحت متعلقہ اداروں کو مختلف اصلاحات مکمل کرنے کے لیے مقررہ مدت دی گئی ہے۔ ستمبر 2028 تک مختلف مراحل میں اقدامات مکمل کیے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور سرمایہ کاروں کے لیے رسائی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق بانڈ مارکیٹ میں عام سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھنے سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتی سیکیورٹیز کی مارکیٹ میں خرید و فروخت کا حجم بڑھنے سے مارکیٹ کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ مالیاتی اداروں اور ریگولیٹرز کے درمیان تعاون کے ذریعے مختلف مراحل پر پیش رفت کی جائے گی۔

ایکشن پلان میں مقرر کردہ ڈیڈ لائنز کے مطابق اصلاحات مکمل ہونے کے بعد عام سرمایہ کاروں کے لیے سرکاری سیکیورٹیز تک رسائی مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔ تاہم منصوبے پر عملدرآمد اور حتمی طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ اداروں کی جانب سے سامنے آنا باقی ہیں۔

More News