بلڈ کینسر کی دوا کی کمی، ہزاروں مریضوں کی جان خطرے میں

بلڈ کینسر کی دوا کی فراہمی بند، ہزاروں مریض خطرے میں

پشاور:سید عدنان

خیبرپختونخوا میں خون کے کینسر کے علاج کے لیے چلنے والا اہم سرکاری پروگرام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ذریعے گزشتہ ایک دہائی سے جاری اس پروگرام میں مستحق مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی تھیں، تاہم فنڈز کی کمی اور ادائیگیوں میں سست روی کے سبب جان بچانے والی دوا نیلوٹینب کی سپلائی اچانک بند ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پروگرام کرونک مائیلوئڈ لیوکیمیا اور دیگر اقسام جیسے اے ایم ایل اور اے ڈبل ایل کے مریضوں کے لیے گزشتہ دس سال سے جاری ہے۔ پروگرام کے تحت صوبے بھر سے آنے والے مریضوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں مفت علاج اور ادویات فراہم کی جاتی تھیں، لیکن حالیہ بندش کے باعث مریض شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پہلے اس دوا کو بین الاقوامی کمپنی کے ذریعے کم قیمت پر فراہم کیا جاتا تھا، لیکن اب یہ کام پاکستانی کمپنی آنکوجین سنبھال رہی ہے۔ اگرچہ نئی دوا کی مارکیٹ قیمت تقریباً چالیس ہزار روپے ماہانہ ہے، لیکن زیادہ تر غریب مریض اس کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کے کینسر کے علاج میں دوا کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔ چند ماہ کے لیے دوا کی عدم دستیابی مریض کی بیماری کو دوبارہ بڑھا سکتی ہے اور علاج کا اثر متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مریض کے پاس آخری آپشن ہڈی کے گودے کا ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے، جس کی لاگت پانچ کروڑ روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے اور کامیابی کی شرح محدود ہے۔

صوبے بھر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مریض سرکاری سپلائی کے انتظار میں ہیں۔ صحت کے ماہرین اور مریضوں کے اہل خانہ نے حکومت سے فوری فنڈز جاری کرنے، ادائیگی کے عمل کو تیز کرنے اور عارضی بنیادوں پر دوا کی فراہمی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ہر بدھ اور جمعرات کو مریض علاج اور ادویات کے حصول کے لیے آتے ہیں، اس لیے مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ صحت عامہ کا بڑا بحران بن سکتا ہے

More News