دہشتگردوں کے سڑکوں پر گشت کو سازش قرار دینا عوام کی توہین ہے، ایمل ولی خان
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے سڑکوں پر گشت کرنے اور چیک پوسٹیں قائم کرنے کے واقعات کو وزیر اعلیٰ کے خلاف سازش قرار دینا مضحکہ خیز اور عوام کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی نااہلی اور ناکامی کو سازش کا نام دینا حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔
پشاور سے جاری بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبے پر مسلط حکمران ٹولہ سازش کا بیانیہ بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ سب سازش ہے تو اس کی روک تھام کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں دہشتگردوں کی حمایت اور وکالت کی۔ ان کے مطابق 2013 کے انتخابات میں بھی ایک مخصوص جماعت کو دہشتگردوں کی جانب سے قابل قبول قرار دیا گیا تھا جبکہ انہی عناصر کو مین اسٹریم کرنے اور انہیں دفاتر دینے کی بات بھی کی گئی۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ چالیس ہزار دہشتگردوں کی آباد کاری اور خطرناک قیدیوں کی رہائی بھی اسی دور حکومت میں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو “فائٹرز” قرار دینے اور انہیں مراعات دینے کی پالیسی نے خیبر پختونخوا کو دوبارہ بدامنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے عوام کو ایک بے حس اور نااہل حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ گزشتہ تیرہ برس کے تجربات نے صوبے کو امن و امان اور معاشی بحرانوں میں مبتلا کر دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 2013 سے اب تک کی ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں یہی عناصر پختونوں پر مسلط کیے جاتے رہے ہیں اور غلط فیصلوں کی قیمت آج بھی صوبے کے عوام ادا کر رہے ہیں۔
ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کو مزید ناکام تجربات اور خطرناک کھیل کا میدان نہ بنایا جائے اور حکومت و ریاست مل کر عوام کو امن فراہم کرنے کے لیے دہشتگردی کے مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔








