سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کا قرض مؤخر کر دیا

سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر کا قرض مزید مدت کے لیے رول اوور کر دیا

سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کی مدت میں مزید توسیع کر دی ہے، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سعودی قرضہ مناسب مدت کے لیے رول اوور ہو چکا ہے اور اس معاملے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو فراہم کیے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ اب مناسب وقت تک مؤخر ہو گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس حوالے سے ان کی سعودی وزیر خزانہ کے ساتھ بھی اچھی ملاقات ہوئی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات اور مالی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے اس معاملے پر تشویش کی ضرورت نہیں۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فی الحال پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے مزید مالی معاونت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو ہر سال تقریباً ڈیڑھ ارب یورو کے بانڈز کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ان ادائیگیوں کے انتظام میں کسی بھی آنے والی حکومت کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرتا آ رہا ہے۔ اکتوبر 2021 میں سعودی حکومت نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر جمع کرائے تھے، جس کی مدت میں وقتاً فوقتاً توسیع کی جاتی رہی۔ جون 2023 میں مزید 2 ارب ڈالر فراہم کیے گئے، جس سے سعودی ڈپازٹس کی مجموعی رقم 5 ارب ڈالر ہوگئی۔

اس کے علاوہ سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی خریداری کے لیے مؤخر ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی۔ اپریل 2026 میں مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر خزانہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ دسمبر میں پاکستان کا دورہ کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی

More News