پناہ گاہ منصوبہ ختم، خیبرپختونخوا میں 52 ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ،

خیبرپختونخوا سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا 52 ملازمین کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ، مختلف اضلاع میں تشویش

پشاور:عارف اکرام

خیبرپختونخوا سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت چلنے والے “پناہ گاہ” منصوبے کے اختتام پر 52 کنٹریکٹ اور پراجیکٹ ملازمین کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد متاثرہ ملازمین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

محکمہ سوشل ویلفیئر کے مطابق پناہ گاہ منصوبہ 30 جون 2026 کو اپنی مقررہ مدت مکمل کر رہا ہے، جس کے باعث منصوبے کے تحت بھرتی کیے گئے ملازمین کو پیشگی ٹرمینیشن نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ملازمین کی خدمات منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی ختم تصور کی جائیں گی۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ خیبرپختونخوا پروجیکٹ امپلیمنٹیشن پالیسی 2022 کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے لیے مخصوص مدت کے لیے بھرتی کیے گئے ملازمین کی ملازمتیں منصوبے کی مدت مکمل ہونے پر خود بخود ختم ہو جاتی ہیں، جب تک کہ حکومت منصوبے میں توسیع یا نئی منظوری نہ دے۔

محکمہ کے فیصلے سے صوبے کے مختلف اضلاع میں تعینات عملہ متاثر ہوگا۔ متاثرہ اضلاع میں ایبٹ آباد، بنوں، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، پشاور، مانسہرہ، سوات اور صوابی شامل ہیں۔ ان اضلاع میں پناہ گاہ مراکز کے انتظام و انصرام کے لیے تعینات متعدد ملازمین گزشتہ کئی برسوں سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

دستاویزات کے مطابق متاثر ہونے والے ملازمین میں وارڈنز، جونیئر کلرکس، ڈرائیورز، معاون عملہ اور دیگر انتظامی و آپریشنل اسٹاف شامل ہے۔ یہ ملازمین پناہ گاہ مراکز میں رہائش، صفائی، سیکیورٹی، انتظامی امور اور ضرورت مند افراد کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

پناہ گاہ منصوبہ صوبائی حکومت کی جانب سے بے گھر، مسافروں اور ضرورت مند افراد کو عارضی رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت مختلف اضلاع میں قائم مراکز میں روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں افراد کو سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ منصوبے کی بندش کے ساتھ ان کا روزگار بھی ختم ہو جائے گا، جس سے ان کے خاندانوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض متاثرہ ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں دیگر منصوبوں یا محکموں میں کھپایا جائے یا ان کی ملازمتوں میں توسیع کی جائے تاکہ وہ بے روزگاری سے بچ سکیں۔

دوسری جانب سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد موجودہ قوانین اور پالیسی کے مطابق ملازمین کی خدمات جاری رکھنا ممکن نہیں۔ تاہم اگر حکومت کی جانب سے منصوبے میں توسیع یا کسی نئے پروگرام کی منظوری دی جاتی ہے تو مستقبل میں صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

پناہ گاہ منصوبے کی بندش کے اعلان کے بعد مختلف اضلاع میں ملازمین اور ان کے اہل خانہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ منصوبے سے وابستہ ملازمین کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے اختتام پر ملازمین کی برطرفی ایک معمول کا عمل ہے، تاہم طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کے لیے متبادل انتظامات نہ ہونے کی صورت میں بے روزگاری کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ملازمین کے تجربے اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی پالیسیوں میں مناسب حکمت عملی اختیار کی جائے۔

پناہ گاہ منصوبہ 30 جون 2026 کو باضابطہ طور پر ختم ہو جائے گا، جس کے بعد 52 ملازمین کی ملازمتیں بھی اختتام پذیر ہو جائیں گی۔

More News

Crime

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ ایکسپلوسیو کے دہشتگردی میں استعمال کو روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ بارودی مواد کے دہشتگردی میں استعمال کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ پشاور:سید عدنان خیبرپختونخوا

Read More »