تاج محمد آفریدی: قبائلی سیاست، عوامی خدمت اور پارلیمانی جدوجہد کی ایک مکمل داستان

تاج محمد آفریدی: قبائلی سیاست، عوامی خدمت اور پارلیمانی جدوجہد کی ایک مکمل داستان

تحریر: عارف اکرام

پاکستان کی قبائلی سیاست میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض سیاسی عہدوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنے علاقے، عوام اور روایات کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ تاج محمد آفریدی بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے جنہوں نے پارلیمانی سیاست، انتظامی امور اور عوامی خدمت کے میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔

ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے علاقے شاہ کس میں پیدا ہونے والے تاج محمد آفریدی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ عوامی مسائل کے حل اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے وقف کیے رکھا۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک قبائلی رہنما، سماجی شخصیت اور عوامی نمائندہ بھی تھے جنہیں اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ گہرا تعلق اور وابستگی حاصل تھی۔

تعلیم سے سیاست تک کا سفر

تاج محمد آفریدی نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج لنڈی کوتل سے حاصل کی۔ یہیں سے ان کی فکری اور عملی زندگی کا آغاز ہوا۔ قبائلی معاشرے سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے جدید سیاسی شعور اور عوامی خدمت کے جذبے کو اپنی شناخت بنایا۔

ان کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے تھا۔ وہ سابق رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی کے بھائی تھے، جن کا شمار بھی علاقے کی اہم سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ اسی سیاسی ماحول نے تاج محمد آفریدی کو عوامی مسائل اور سیاسی عمل سے قریب رکھا۔

سینیٹ میں قبائلی علاقوں کی آواز

سال 2015 میں تاج محمد آفریدی آزاد امیدوار کی حیثیت سے سینیٹ آف پاکستان کے رکن

منتخب ہوئے۔ انہوں نے 11 مارچ 2015 سے 11 مارچ 2021 تک ایوانِ بالا میں خدمات انجام دیں۔

سینیٹ میں ان کی سیاست کا محور قبائلی علاقوں کے مسائل، ترقیاتی منصوبے، بنیادی سہولیات اور عوامی حقوق تھے۔ وہ ان نمائندوں میں شامل تھے جو سابق فاٹا اور سرحدی علاقوں کے عوام کی مشکلات کو قومی سطح پر اجاگر کرتے رہے۔

پارلیمانی مباحث میں انہوں نے بارہا تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع سے متعلق مسائل کو اٹھایا اور ان علاقوں کی محرومیوں کے خاتمے پر زور دیا۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے متحرک رہتے تھے۔

نگران وزیر کے طور پر خدمات

پارلیمانی سیاست کے بعد تاج محمد آفریدی کو خیبر پختونخوا کی نگران حکومت میں بھی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔ وہ 26 جنوری 2023 سے 10 اگست 2023 تک نگران وزیر برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری رہے۔

اس دوران صوبے کو مختلف قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کا سامنا رہا۔ تاج محمد آفریدی نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں، بحالی کے منصوبوں اور ریلیف آپریشنز کی نگرانی میں فعال کردار ادا کیا۔

حکومتی اور انتظامی حلقوں میں انہیں ایک ایسے وزیر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو فیلڈ میں جا کر صورتحال کا جائزہ لینے اور متاثرین کے مسائل سننے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کو مختلف حلقوں میں سراہا گیا۔

بدلتے سیاسی ادوار اور سیاسی وابستگیاں

تاج محمد آفریدی کی سیاسی زندگی مختلف سیاسی ادوار سے گزری۔ وہ طویل عرصے تک آزاد حیثیت سے س

یاست کرتے رہے اور اپنی انفرادی سیاسی شناخت برقرار رکھی۔

بعد ازاں انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ تحریکِ اصلاحات پاکستان سے وابستہ رہے اور پھر 2023 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے۔

سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی کے باوجود ان کی توجہ ہمیشہ اپنے علاقے اور عوامی مسائل پر مرکوز رہی۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف سیاسی حلقوں میں ان کے تعلقات اور احترام کی ایک خاص حیثیت موجود رہی۔

عوامی خدمت ان کی سیاست کا مرکز

تاج محمد آفریدی کی سیاست کا بنیادی مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت تھا۔ قبائلی علاقوں کی ترقی، متاثرہ خاندانوں کی بحالی

، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل رہا۔

قبائلی روایات سے جڑے ہونے کے باوجود وہ جدید سیاسی سوچ کے حامل تھے اور مذاکرات، مشاورت اور عوامی رابطے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں قبائلی اقدار، سیاسی بصیرت اور عوامی خدمت کا منفرد امتزاج نظر آتا تھا۔

ایک المناک حادثہ اور سیاسی خلا

12 جون 2026 کو تاج محمد آفریدی کی زندگی کا سفر اچانک ایک المناک حادثے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ وہ اسلام آباد سے پشاور جا رہے تھے کہ موٹروے ایم-1 پر کرنل شیر خان انٹرچینج کے قریب پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

ان کی وفات کی خبر نے سیاسی، سماجی اور قبائلی حلقوں کو غمزدہ کر دیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں، عوامی ن

مائندوں اور سماجی شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ایک یادگار ورثہ

تاج محمد آفریدی اپنے پیچھے دو بیٹے، چار بیٹیاں اور ہزاروں چاہنے والے چھوڑ گئے ہیں۔ تاہم ان کی اصل میراث وہ خدمات ہیں جو انہوں نے عوام کے لیے انجام دیں۔

قبائلی علاقوں کی تاریخ میں تاج محمد آفریدی کا نام ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے پارلیمنٹ سے لے کر نگران حکومت تک ہر ذمہ داری کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کی سیاسی جدوجہد، انتظامی خدمات اور عوامی وابستگی آنے والے برسوں تک ان کی شناخت کا حصہ رہیں گی۔

تاج محمد آفریدی بلاشبہ ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے سیاست کو عوامی خدمت کے ساتھ جوڑ کر اپنی ایک مستقل جگہ بنائی، اور یہی ان کا سب سے بڑا تعارف اور ورثہ ہے۔

More News