عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس میں اہم پیش رفت

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں 29 جون کو سماعت کے لیے مقرر، اہم قانونی پیش رفت متوقع

اسلام آباد: 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر اپیلوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں کی اپیلیں باقاعدہ سماعت کے لیے 29 جون کو مقرر کر دی ہیں، جس کے بعد کیس ایک بار پھر قومی سیاسی اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ کرے گا۔

کاز لسٹ کے مطابق عدالت نہ صرف مرکزی اپیلوں کا جائزہ لے گی بلکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواستوں پر بھی غور کرے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق آئندہ سماعت کیس کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس پاکستان کے اہم ترین احتسابی مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں قومی خزانے کو مبینہ نقصان پہنچانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات زیرِ بحث ہیں۔ اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق عدالت اس سے قبل وکلا کو ہدایت جاری کر چکی تھی کہ سات روز کے اندر وکالت ناموں پر متعلقہ فریقین کے دستخط حاصل کر کے جمع کرائے جائیں تاکہ اپیلوں کی سماعت میں مزید تاخیر نہ ہو۔ عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کے بعد اب کیس باقاعدہ سماعت کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ 29 جون کی سماعت کے دوران اپیلوں کی قابلِ سماعت ہونے، مقدمے کے مختلف قانونی نکات اور توہینِ عدالت کی درخواستوں پر ابتدائی دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں۔ اگر عدالت نے تفصیلی سماعت شروع کی تو فریقین کے وکلا کو اپنے مؤقف کی وضاحت کا موقع بھی ملے گا۔

دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کی عدالتی کارروائی ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے، کیونکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات مسلسل قومی سیاست کا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔

اب تمام نظریں 29 جون کو ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں اسلام آباد ہائیکورٹ اس اہم مقدمے میں آئندہ قانونی پیش رفت کا تعین کرے گی۔

More News