قومی اسمبلی نے 482 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس، ایف بی آر ترمیمی بل 2026 اور 10 سال پرانے اضافی اخراجات کی منظوری دے دی
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے مالیاتی امور سے متعلق اہم کارروائی کرتے ہوئے مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کے لیے مجموعی طور پر 482 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی، جبکہ ایف بی آر ترمیمی بل 2026 بھی منظور کر لیا گیا۔ ایوان نے اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ایک دہائی قبل کیے گئے اضافی اخراجات کی بھی توثیق کر دی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اور سرکاری اخراجات سے متعلق متعدد مالیاتی دستاویزات ایوان میں پیش کیں۔ ان دستاویزات میں مالی سال 2026-27 کے منظور شدہ اخراجات، مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے ضمنی اخراجات، 2016-17 سے 2024-25 تک کے متجاوز اخراجات اور آڈٹ رپورٹس برائے سال 2025-26 شامل تھیں۔ ایوان نے ان دستاویزات کی منظوری دے دی۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے ایف بی آر ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیا، جسے قومی اسمبلی نے منظوری دے دی۔ بل کی منظوری کے بعد مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے اضافی اخراجات کے لیے مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے گئے اور ان کی مرحلہ وار منظوری دی گئی۔
دفاع، پاور اور تعلیم کے شعبوں کے لیے بڑے فنڈز
منظور شدہ ضمنی گرانٹس میں سب سے نمایاں فنڈز دفاع، توانائی اور تعلیم کے شعبوں کے لیے مختص کیے گئے۔ قومی اسمبلی نے دفاعی خدمات کے لیے 22 ارب 84 کروڑ روپے اور بعد ازاں 33 ارب 96 کروڑ 81 لاکھ روپے کے اضافی مطالبات زر منظور کیے۔
پاور ڈویژن کے لیے مختلف مدات میں مجموعی طور پر 148 ارب روپے سے زائد کی منظوری دی گئی، جن میں 43 ارب 10 کروڑ روپے اور 105 ارب 50 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاور سیکٹر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے۔
وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے لیے 57 ارب 18 کروڑ 98 لاکھ روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری دی گئی، جبکہ وفاقی تعلیمی ادارہ جات گیریژن کے لیے ایک ارب 43 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز منظور کیے گئے۔
صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے لیے خطیر فنڈز
قومی اسمبلی نے قومی صحت خدمات ڈویژن کے لیے مختلف مدات میں 33 ارب روپے سے زائد کے اضافی فنڈز کی منظوری دی۔ ان میں 3 ارب 82 کروڑ روپے اور 29 ارب 66 کروڑ روپے سے زائد کے مطالبات زر شامل ہیں۔
غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ ڈویژن کے لیے 22 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد کے اضافی فنڈز منظور کیے گئے، جبکہ دیگر سماجی پروگراموں کے لیے بھی اضافی وسائل مختص کیے گئے۔
این ڈی ایم اے، ایس آئی ایف سی اور دیگر اداروں کے لیے فنڈز
ایوان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے لیے 4 ارب روپے، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے لیے 7 کروڑ 62 لاکھ روپے اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے لیے 25 کروڑ روپے کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن، داخلہ و انسداد منشیات ڈویژن، امور کشمیر و گلگت بلتستان، اطلاعات و نشریات، قانون و انصاف، قومی غذائی تحفظ، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور دیگر اداروں کے اضافی اخراجات بھی منظور کیے گئے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی وسائل
قومی اسمبلی نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے کی منظوری دی۔ ان میں:
ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 10 ارب روپے
آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کے لیے 3 ارب 70 کروڑ روپے
ریونیو نیوٹیک کے لیے 2 ارب 75 کروڑ روپے
خزانہ ڈویژن کے لیے 5 ارب 60 کروڑ روپے
ریلوے ڈویژن کے سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 6 ارب 61 کروڑ روپے
سول ورکس کے لیے مجموعی طور پر 30 ارب روپے سے زائد فنڈز
شامل ہیں۔
127 ارب روپے سے زائد سبسڈیز اور متفرق اخراجات
ایوان نے گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات کی مد میں 127 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس، اطلاعات و نشریات، داخلہ، کمبائنڈ سول آرمڈ فورسز اور دیگر اداروں کے لیے بھی اضافی فنڈز منظور کیے گئے۔
10 سال پرانے اضافی اخراجات کی بھی توثیق
قومی اسمبلی نے مالی سال 2016-17 کے دوران کیے گئے اضافی اخراجات کی بھی منظوری دے دی۔ اس سلسلے میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 4 ارب 12 کروڑ 51 لاکھ روپے سے زائد کے اضافی اخراجات کو باضابطہ طور پر منظور کیا گیا۔
حکومتی مؤقف
حکومت کا کہنا ہے کہ اضافی فنڈز کا مقصد مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں کی تکمیل، سرکاری اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق اضافی اخراجات ملکی ضروریات اور جاری مالی ذمہ داریوں کے تحت کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے ضمنی گرانٹس کے بڑے حجم، اضافی اخراجات اور بعض شعبوں میں بار بار اضافی فنڈز کی ضرورت پر سوالات اٹھائے اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔
قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو اضافی فنڈز کے اجرا کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جبکہ ایف بی آر ترمیمی بل 2026 کی منظوری کو حکومت کی مالیاتی اور ٹیکس اصلاحات کے ایجنڈے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








