وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار

کراکس: جنوبی امریکی ملک وینزویلا شدید قدرتی آفت کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں دارالحکومت کراکس اور اس کے گرد و نواح میں چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے دو انتہائی طاقتور زلزلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔ 7.2 اور 7.5 شدت کے ان زلزلوں کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، اہم شاہراہیں متاثر ہوئیں، بجلی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے۔

حکام کے مطابق اب تک 235 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ 1500 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ زخمیوں میں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق 10 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں اور متعدد مقامات پر ملبے تلے لوگوں کے دبے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

زلزلے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 4 منٹ پر کراکس کے مغربی علاقے میں آئے۔ پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا جبکہ اس کے فوراً بعد 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقتور جھٹکا محسوس کیا گیا۔ دونوں زلزلوں کے درمیان وقفہ ایک منٹ سے بھی کم تھا جس کے باعث لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا موقع نہ مل سکا اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ان زلزلوں میں سے ایک سن 1900 کے بعد وینزویلا میں آنے والا طاقتور ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زلزلے کی شدت اور آبادی والے علاقوں میں اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے نقصانات کی حتمی مالیت اور ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ لگانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی بلند و بالا رہائشی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔ متعدد تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر، اسکول اور اسپتال بھی نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں پھٹ گئیں جبکہ پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

امدادی حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں دن رات ملبہ ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ خصوصی سرچ اینڈ ریسکیو یونٹس، تربیت یافتہ کتوں اور جدید آلات کی مدد سے مختلف مقامات پر تلاش کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے پھنسے افراد کو زندہ نکالنے کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں، تاہم امدادی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رکھی جائیں گی۔

وینزویلا کے وزیر داخلہ نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت تمام دستیاب وسائل متاثرہ علاقوں میں منتقل کر رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقوں کا رخ نہ کریں تاکہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ ملک بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور طبی عملے کی اضافی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں۔

زلزلوں کے باعث ملک کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ مائیکیٹیا بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق ہوائی اڈے کی عمارت کے مختلف حصوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جبکہ بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ حفاظتی خدشات کے پیش نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور ماہرین کی ٹیمیں نقصان کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔

بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث کئی شہر تاریکی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ مواصلاتی نظام میں بھی بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہوا ہے۔ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ نیٹ ورک متعدد علاقوں میں بند ہونے کے باعث متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

زلزلے ایسے وقت میں آئے جب ملک میں قومی تعطیل منائی جا رہی تھی اور بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں، تفریحی مقامات اور عوامی اجتماعات میں موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ زیادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے ابتدائی تجزیے میں خبردار کیا ہے کہ زلزلوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق شدید تباہی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں، جبکہ کئی علاقوں سے مکمل معلومات موصول نہ ہونے کی وجہ سے نقصانات کی حقیقی صورتحال ابھی واضح نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب عالمی برادری نے وینزویلا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اس مشکل گھڑی میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں معاونت اور متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔

اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے اور ضرورت پڑنے پر ہنگامی امداد فراہم کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دن متاثرہ علاقوں کے لیے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے اور مزید عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تباہ شدہ عمارتوں میں داخل ہونے سے گریز کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی اداروں سے فوری رابطہ کریں۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق تباہی کی مکمل تصویر سامنے آنے میں ابھی کئی روز لگ سکتے ہیں، تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ وینزویلا کی جدید تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔

More News