رائٹ سائزنگ پر عملدرآمد تیز، ختم شدہ آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا حکم

رائٹ سائزنگ پر عملدرآمد تیز، ختم شدہ آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی حکومت میں رائٹ سائزنگ کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ختم کی گئی آسامیوں اور بند کیے گئے سرکاری اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ کے اندر مکمل کرکے حکومت کو پیش کرے تاکہ اصلاحاتی عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

وزیراعظم ہاؤس میں وفاقی حکومت کے حجم میں کمی، اخراجات میں بچت اور سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غیر ضروری آسامیوں اور عہدوں کا خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام اور ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔

اجلاس میں وزیراعظم کو رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات اور مختلف وزارتوں و اداروں میں اصلاحات کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ متعدد اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ رائٹ سائزنگ کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز، پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) اور پاسکو جیسے اداروں کو بند کیا گیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ہوا اور سرکاری وسائل کی بچت ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وسائل کا مؤثر استعمال اور عوامی خدمات کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے تحت کیے گئے تمام فیصلوں کی شفافیت اور مؤثریت یقینی بنانے کے لیے آزاد تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے، تاکہ اصلاحاتی عمل کے نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام وزارتیں اور سرکاری ادارے اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ رائٹ سائزنگ کے ذریعے غیر ضروری اخراجات میں کمی، اداروں کی کارکردگی میں بہتری، مالی نظم و ضبط اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی، جبکہ مستقبل میں بھی اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

More News