ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیراعظم کی ایف بی آر کو ہدایات
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس چوری کے خاتمے اور محصولات میں اضافے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس چوری میں ملوث افراد اور کاروباروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ٹیکس نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں محصولات میں اضافے، ٹریک اینڈ ٹریس نظام، ڈیجیٹل نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف معاشی شعبوں میں ٹیکس استعداد کا درست تعین کرنے کے لیے جدید اور سائنسی طریقہ کار اختیار کیا جائے، جبکہ پاور سیکٹر کے تعاون سے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کی صنعت کے پیداواری اعداد و شمار اور ایف بی آر کے ریکارڈ میں مکمل مطابقت سامنے آئی ہے، جو ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت پر چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے افراد اور کاروباری ادارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور حکومت انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرتی رہے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود رہیں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل براہِ راست سن کر ان کا بروقت حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ٹیکسٹائل، مشروبات، اسٹیل، پولٹری، خوردنی تیل و گھی اور ٹائرز سمیت اہم صنعتی شعبوں میں دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل پیداوار نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال کیا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹریکنگ سسٹم پہلے ہی فعال ہے، جبکہ مزید پانچ شعبوں میں اس کا نفاذ آخری مراحل میں ہے، جہاں 700 ارب روپے سے زائد کی اضافی ٹیکس استعداد موجود ہے۔ مزید نو صنعتی شعبوں میں بھی ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے تقریباً 560 ارب روپے اضافی محصولات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایف بی آر میں تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران کو یومِ آزادی کے موقع پر اعزازات سے نوازا جائے گا۔ اجلاس میں کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ، افرادی قوت کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت، پیئر ریویو سسٹم، کارکردگی جانچ اور شفافیت کے لیے 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کی تعیناتی پر بھی بریفنگ دی گئی۔
مزید بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس اسکرونٹی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے، جبکہ متبادل تنازعاتی حل (ADRCs) کے ذریعے جون 2026 تک 152 مقدمات نمٹا کر 54 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ممکن بنائی جا چکی ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔






