پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک، حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں، ایمل ولی خان
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ عملاً لاوارث ہو چکا ہے، عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ حکمران سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا میں چار مختلف دہشت گرد حملے ہوئے جن میں عام شہریوں اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے سوات، ہنگو، پشاور کے علاقے متنی اور وزیرستان میں پیش آنے والے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے بقول حکمرانوں کا کام صرف مذمتی بیانات دینا نہیں بلکہ مؤثر عملی اقدامات کرنا ہے، مگر صوبائی حکومت ایک سزا یافتہ قیدی کی رہائی کی سیاست میں مصروف ہے جبکہ وفاقی حکومت کی توجہ دیگر سیاسی معاملات پر مرکوز ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف واضح اور مؤثر ریاستی پالیسی نہ ہونے کی سزا آج خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی نااہلی، بے حسی اور غیر سنجیدگی نے دہشت گرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کے باعث امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے اور پارٹی امن، جمہوریت اور پختون وطن کے دفاع کی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریاست نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں، جس کی ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔







