زمین سے ٹکرانے والے بڑے سیارچے کو روکنے کا نیا طریقہ تجویز، چینی سائنس دانوں کی تحقیق

زمین سے ٹکرانے والے بڑے سیارچے کو روکنے کا نیا طریقہ تجویز، چینی سائنس دانوں کی تحقیق

بیجنگ: چینی سائنس دانوں نے زمین کو ممکنہ طور پر تباہ کن سیارچوں (Asteroids) کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نئی دفاعی حکمت عملی پیش کی ہے، جس میں سیارچے کے اندر جوہری آلہ نصب کرکے دھماکا کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ اس کا رخ زمین سے موڑا جا سکے یا اسے مکمل طور پر تباہ کیا جا سکے۔

چین کی اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی کے محققین کے مطابق بڑے سیارچے انسانی تہذیب کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے ہی دیوہیکل سیارچوں کے زمین سے ٹکرانے کے باعث بڑے پیمانے پر جانداروں کی نسلیں ختم ہوئیں اور ماحول میں تباہ کن تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں درجنوں ایسے سیارچے دریافت ہوئے ہیں جو کئی سو میٹر چوڑے ہیں اور زمین کے نسبتاً قریب سے گزرے ہیں، اسی لیے دنیا بھر کے ماہرین فلکیات ان کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی خطرناک سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کے لیے وقت کم ہو تو جوہری دھماکا اس کا راستہ تبدیل کرنے یا اسے تباہ کرنے کا مؤثر ترین طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

“اسپیس: سائنس اینڈ ٹیکنالوجی” نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ ایک خلائی جہاز پہلے سیارچے کی سطح پر گہرا گڑھا بنائے گا، جس کے بعد اس گڑھے میں جوہری آلہ نصب کرکے دھماکا کیا جائے گا۔ اس دھماکے سے پیدا ہونے والی طاقت سیارچے کی رفتار اور سمت تبدیل کر سکتی ہے یا اسے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 100 میٹر چوڑے سیارچے کو ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے 200 گنا زیادہ طاقتور دھماکے کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک کلومیٹر چوڑے سیارچے میں تقریباً 20 میٹر گہرائی پر دھماکا کرکے اس کی رفتار اتنی تبدیل کی جا سکتی ہے کہ وہ زمین سے محفوظ فاصلے پر گزر جائے۔

سائنس دانوں نے واضح کیا کہ جوہری دھماکے کے بعد سیارچے کے رویے کی درست پیش گوئی کرنا آسان نہیں، اسی لیے اس حکمت عملی کا جائزہ جدید کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعے لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تحقیق مستقبل میں زمین کے قریب آنے والے خطرناک سیارچوں سے دفاع کے لیے عملی منصوبہ بندی اور انجینیئرنگ ڈیزائن تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

More News