حیات آباد میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ، شہری عدم تحفظ کا شکار
پشاور: پشاور کے پوش رہائشی علاقے حیات آباد میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ رہزنی، موبائل فون چھیننے اور نقدی لوٹنے کے متعدد واقعات کے بعد علاقے کے مکین خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ متاثرین نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس بیشتر مقدمات درج تو کر لیتی ہے، تاہم ملزمان کی گرفتاری اور مسروقہ سامان کی برآمدگی کے حوالے سے پیش رفت انتہائی سست ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
متاثرہ شہری امتیاز احمد، جو ضلع سوات کے رہائشی ہیں، نے حیات آباد پولیس کو بتایا کہ وہ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) اسپتال کے مرکزی گیٹ کے قریب موجود تھے کہ ایک کار میں سوار تین مسلح افراد نے انہیں یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے اسلحے کے زور پر ان سے 29 ہزار روپے نقد چھین لیے اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے ان کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسی طرح ایک اور واردات میں ارباب یونیورسٹی روڈ کے رہائشی احمد نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے چچا زاد کے ہمراہ شہاب الدین جنرل اسپتال کے قریب موجود تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے انہیں روک کر قیمتی موبائل فون چھین لیے اور فرار ہوگئے۔
فیز 6 حیات آباد کے رہائشی محمد خضر بھی اسٹریٹ کرائم کا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ بی آر ٹی اسٹاپ کے قریب موبائل فون پر بات کر رہے تھے کہ اچانک موٹر سائیکل پر سوار ایک نامعلوم ملزم ان کا موبائل فون چھین کر فرار ہوگیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق حیات آباد کی باؤنڈری وال کئی مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر اور نشے کے عادی افراد اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد انہی راستوں سے علاقے میں داخل ہوتے ہیں، وارداتیں کرتے ہیں اور آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ باؤنڈری وال کی فوری مرمت، داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی، پولیس گشت میں اضافہ اور سی سی ٹی وی کیمروں کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔
دوسری جانب حیات آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تمام متاثرین کی درخواستوں پر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور مختلف ٹیمیں ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کر رہی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔








