عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں

لندن: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتیں تقریباً تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں فروخت کے بڑھتے ہوئے دباؤ، سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور جغرافیائی کشیدگی میں وقتی کمی نے تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تازہ مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق عالمی معیار سمجھے جانے والے برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت میں دو فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 81.62 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت میں 3.49 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 77.54 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ کاروباری سیشن کے دوران خام تیل کی مجموعی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث قیمتیں گزشتہ تین ہفتوں کی کم ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ عالمی توانائی مارکیٹ میں طلب اور رسد سے متعلق غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاروں کی محتاط سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور عالمی اقتصادی خدشات بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کی رفتار، توانائی کی طلب، اوپیک پلس کی پالیسی، جغرافیائی کشیدگی اور بین الاقوامی سفارتی پیش رفت آئندہ ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ان کے مطابق اگر عالمی سطح پر خام تیل کی طلب میں مزید کمی یا رسد میں اضافہ ہوتا ہے تو قیمتوں میں مزید کمی بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی ان ممالک کے لیے مثبت خبر ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان سمیت متعدد درآمد کنندہ ممالک کو درآمدی بل میں کمی، زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی اور مہنگائی پر قابو پانے میں کسی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب توانائی کے شعبے کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا استحکام اب بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ کسی بھی جغرافیائی یا سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کو فی الحال مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو وقتی طور پر کم کر دیا۔

More News