سابق بھارتی سفارتکار نے ’’مکہ سہ فریقی معاہدے‘‘ کو بھارت کے لیے خطرہ قرار دے دیا
سابق بھارتی سفارتکار ٹی ایس تریمورتی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو بھارت کے لیے تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد سے خطے میں تینوں ممالک کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔
سابق بھارتی سفارتکار اور اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل مندوب ٹی ایس تریمورتی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں تینوں ممالک کی اہمیت اور اثر و رسوخ میں اضافہ بھارت کے لیے مثبت پیش رفت نہیں ہوگی۔
ٹی ایس تریمورتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد انہوں نے 10 مارچ کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں پیش گوئی کی تھی کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے اور ان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔
سابق بھارتی سفارتکار کے مطابق موجودہ پیش رفت ان کے اسی تجزیے کی عکاسی کرتی ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ اور مشترکہ مفادات پر بڑھتی ہوئی ہم آہنگی بھارت کے لیے قابلِ غور معاملہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران تینوں ممالک نے باہمی دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے حوالے سے عزم کا اظہار کیا۔
مبصرین کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی، سفارتی اور اقتصادی روابط پہلے ہی موجود ہیں، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس تعاون کو ایک نئی اسٹریٹجک جہت دے دی ہے۔








