افغانستان، بھارت گٹھ جوڑ کا دعویٰ، پاکستان مخالف ڈرونز بھی ناکام
اسلام آباد: ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کے لیے فراہم کیے گئے ڈرونز محدود تکنیکی صلاحیت کے حامل ہیں، جبکہ پاکستان کے مضبوط دفاعی نظام کے باعث ان کے عزائم ناکام ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ مقام بن چکا ہے، جہاں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو افغان طالبان کی حمایت جبکہ بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے جون 2026 میں پاکستان میں ڈرون حملے کا دعویٰ کیا، تاہم پاک فضائیہ کے دفاعی نظام نے ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کردیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے یو اے ایس ڈرونز افغانستان میں تیار نہیں ہوئے بلکہ بھارت کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق جون سے جولائی 2026 کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 9 ڈرون حملے کیے گئے۔ افغان طالبان سے برآمد ہونے والے ڈرونز کی رینج 50 سے 270 کلومیٹر جبکہ وزن اٹھانے کی صلاحیت 5 کلوگرام تک بتائی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی ساختہ یا فراہم کردہ ڈرونز تکنیکی اعتبار سے محدود صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس ان سے نمٹنے کے لیے سافٹ کِل اور ہارڈ کِل سمیت مربوط دفاعی صلاحیت موجود ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے مؤثر دفاعی نظام کے باعث افغان طالبان کو فراہم کی جانے والی بھارتی ٹیکنالوجی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہی۔








