پشاور ہائیکورٹ کا 2 افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے روکنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ کا 2 افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے روکنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے قانونی ویزے پر پاکستان میں مقیم دو افغان صحافیوں کی گرفتاری اور افغانستان ڈی پورٹیشن سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو دونوں صحافیوں کو 60 دن تک گرفتار کرنے یا زبردستی افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا۔

عدالت کے مطابق درخواست گزار افغان صحافی سید احسان اللہ صالحی اور سید منیر احمد قانونی ویزے پر پاکستان میں مقیم ہیں۔ دونوں نے 2026 میں فرانس میں آباد کاری (Relocation) کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں، جو تاحال زیر غور ہیں۔ فرانس کے سفارتخانے کی جانب سے ان کے کیسز کی توثیق بھی کی جاچکی ہے۔

درخواست گزاروں نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ قانونی طور پر پاکستان میں قیام کے باوجود انہیں گرفتاری اور ملک بدری کا خدشہ ہے، جس کے باعث وہ آزادانہ نقل و حرکت اور طبی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ دونوں صحافیوں کے معاملات کا حتمی تعین 60 دن کے اندر کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس مدت کے دوران متعلقہ ادارے دونوں درخواست گزاروں کو گرفتار نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں زبردستی افغانستان ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

عدالت نے یہ حکم بریالے میان خیل بنام فیڈریشن کیس میں دی گئی طرز کی ہدایات کی روشنی میں جاری کیا۔ فیصلے کے بعد دونوں افغان صحافیوں کو فی الحال پاکستان میں قانونی کارروائی مکمل ہونے تک تحفظ حاصل رہے گا۔

More News