ڈیپ فیک کا بڑھتا خطرہ، جعلی ویڈیوز اور آواز کی پہچان کیسے ممکن ہے؟

ڈیپ فیک کا بڑھتا خطرہ، جعلی ویڈیو اور آواز کی شناخت کیسے کریں؟

مصنوعی ذہانت نے روزمرہ زندگی اور ٹیکنالوجی کے کئی شعبوں میں نئی سہولتیں پیدا کی ہیں، تاہم اس کے غلط استعمال نے ڈیپ فیک جیسے خطرات کو بھی جنم دیا ہے۔ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ جعلی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز اتنی حقیقت کے قریب ہوسکتی ہیں کہ عام صارف کے لیے اصل اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ڈیپ فیک صرف ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ وائس کلوننگ کے ذریعے کسی شخص کی آواز کی نقل بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ جعل ساز کسی رشتہ دار، دوست، افسر یا بینک نمائندے کی آواز کی مشابہت استعمال کرکے رقم، پاس ورڈ، او ٹی پی یا دیگر حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

جعلی ویڈیو کی پہچان

ڈیپ فیک ویڈیو دیکھتے ہوئے بعض علامات صارف کو محتاط کرسکتی ہیں۔ ہونٹوں کی حرکت اور آواز میں عدم مطابقت، غیر فطری چہرے کے تاثرات، آنکھوں کی عجیب حرکت یا پلک جھپکنے کا غیر معمولی انداز مشکوک ویڈیو کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

اسی طرح سر اور گردن کی حرکت کا جسم کے باقی حصوں سے غیر مربوط ہونا، ہاتھوں اور انگلیوں کی غیر معمولی حرکات، چہرے کے کناروں کا دھندلا پن اور جلد کا حد سے زیادہ مصنوعی نظر آنا بھی قابلِ توجہ علامات ہیں۔ روشنی اور سائے اگر چہرے یا جسم کے ساتھ قدرتی انداز میں مطابقت نہ رکھتے ہوں تو بھی مواد کی حقیقت جانچنی چاہیے۔

آواز میں بھی جعل سازی ممکن

ڈیپ فیک آڈیو میں غیر فطری اتار چڑھاؤ، روبوٹک انداز، تلفظ میں معمولی تبدیلی یا اچانک آواز کا بدل جانا شک پیدا کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی مشکوک ویڈیو یا آڈیو پر فوری یقین کرنے کے بجائے اس کی معلومات کو معتبر ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے، خصوصاً جب اس میں رقم، ذاتی معلومات یا کسی اہم فیصلے کا مطالبہ کیا جا رہا ہو۔

More News