ملک بھر کی ہائیکورٹس میں نئے ججز کی تقرری، وزارتِ قانون نے نوٹیفکیشن جاری کردیئے
اسلام آباد: وزارتِ قانون نے ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں نئے ججز کی تقرری اور بعض ایڈیشنل ججز کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیئے ہیں۔ نئی تقرریوں کے بعد بلوچستان، اسلام آباد، لاہور، سندھ اور پشاور ہائیکورٹس میں عدالتی امور انجام دینے والے ججز کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔
وزارتِ قانون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ میں محمد رؤف عطا، اللہ داد روشن اور عبدالقیوم لہڑی کو بطور جج تعینات کیا گیا ہے۔ ان تقرریوں کا مقصد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی سماعت اور عدالتی امور کو مزید مؤثر بنانے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی تین ایڈیشنل ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ وزارتِ قانون کے مطابق ایاز شوکت، عمر مجید ملک اور شاہ رخ ارجمند کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ 10 ایڈیشنل ججز تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں غلام سرور، محمد امجد خان زاہد، امیر عجم ملک، شیرین عمران، اسد علی باجوہ اور محمد امجد پرویز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ خالد بن عزیر، منور اقبال دوگل، فرہاد علی شاہ اور محمد عثمان غنی کو بھی لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز مقرر کیا گیا ہے۔ ان تقرریوں کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت اور عدالتی ذمہ داریوں کی تقسیم میں مزید بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے لیے بھی نئے ججز کی تقرری کی گئی ہے۔ وزارتِ قانون کے مطابق محمد ہمایوں خان، سریش کمار اور شاہنواز میمن کو بطور جج تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس خالد حسین کی بطور ایڈیشنل جج مدتِ ملازمت میں مزید 6 ماہ کی توسیع بھی کردی گئی ہے۔
دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو بطور ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا ہے۔ وزارتِ قانون کے مطابق مختلف ہائیکورٹس میں تعینات کیے گئے ایڈیشنل ججز کی مدتِ تقرری ایک سال ہوگی۔
وزارتِ قانون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشنز کے بعد ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں عدالتی امور سے متعلق نئی ذمہ داریاں شروع ہوں گی۔ نئی تقرریوں کو عدالتی نظام کو فعال رکھنے، مقدمات کی سماعت میں تسلسل برقرار رکھنے اور زیرِ التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے








