نئے صوبے بننے سے پیسوں کی بچت اور گورننس بہتر ہوگی: میاں عامر محمود

نئے صوبے بننے سے پیسوں کی بچت اور گورننس بہتر ہوگی: میاں عامر محمود

اسلام آباد: ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر سامنے آگئی۔ ماہر تعلیم، چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز اور سابق ناظم لاہور میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے سے اخراجات میں اضافہ نہیں بلکہ پیسوں کی بچت اور گورننس میں بہتری آئے گی۔

ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قومی سطح پر مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع “کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں؟” تھا۔ مباحثے میں ملک میں انتظامی ڈھانچے، اختیارات کی تقسیم اور گورننس سے متعلق مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔

مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کا نظام بہت اچھی چیز ہے، تاہم جمہوری دور میں کبھی مؤثر اور اچھی لوکل گورنمنٹ دیکھنے کو نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ اچھی حکومت اور بہتر انتظامی نظام عوام کا حق ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بننے سے سرکاری اخراجات بڑھنے کے بجائے کم ہوسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں عوام کو بہتر گورننس فراہم کی جاسکتی ہے۔

میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ہمیشہ لوکل گورنمنٹ نظام کی حمایت کرتی رہی ہیں، تاہم عملی طور پر ایک جماعت نے بھی لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہیں کرائے۔

نئے صوبوں پر سیاسی رہنماؤں کی رائے

مباحثے کے دوران پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شروع ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اختیارات کی تقسیم سمیت کئی اہم مسائل موجود ہیں اور ان معاملات پر بحث ضروری ہے۔ تاہم ان کے مطابق تمام اقدامات آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔

سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل اسی صورت ممکن ہے جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔

دوسری جانب سابق مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ ملک کو نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اصلاحات کے لیے نیشنل کمیشن قائم کیا جائے اور نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔

مباحثے میں سامنے آنے والی آرا کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے کہ آیا ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کرنے سے گورننس، وسائل کی تقسیم اور عوامی مسائل کے حل میں بہتری لائی جاسکتی ہے یا نہیں۔

More News